امپھال :منی پور میں بشنوپور ضلع کے کانگوئی اور پھوؤگاکچاؤ علاقہ میں دو طبقات میں تصادم کے بعد فوج یعنی آر پی ایف کے ذریعہ فوری کارروائی کی گئی ۔ جمعرات کو پھر تشدد بھڑک اٹھا۔پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شل برسائے۔ اس تصادم میں 17 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ کشیدہ ماحول کو دیکھتے ہوئے امپھال میں احتیاطاً کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امپھال مشرق اور امپھال مغرب کے ضلع مجسٹریٹ نے کرفیو میں دی گئی نرمی کو واپس لے لیا ہے۔ احتیاط کے طور پر آج پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ امپھال وادی میں رات کا کرفیو پہلے سے ہی نافذ ہے۔جمعرات کے روز ہوئے تصادم سے کچھ گھنٹے پہلے منی پور کے ہائی کورٹ نے چراچند پور ضلع کے ہاؤلائی کھوپی گاؤں میں اس مجوزہ مقام کو لے کر حسب سابق حالات بنائے رکھنے کا حکم دیا تھا، جہاں کوکی طبقہ کے لوگوں نے نسلی تشدد میں مارے گئے 35 افراد کی نعشوں کو دفنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایگزیکٹیو چیف جسٹس ایم وی مرلی دھرن نے صبح 6 بجے اس معاملے میں سماعت کے بعد یہ حکم دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بشنوپور ضلع میں ہزاروں مقامی افراد سیکورٹی فورسز کی آمد و رفت کو روکنے کیلئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ خواتین کی قیادت میں مقامی لوگوں نے بیریکیڈ کو پار کرنے کی کوشش کی اور مطالبہ کیا کہ انھیں دفن کے مقام توئی بونگ تک جانے کی اجازت دی جائے۔
دن کے وقت حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے احتیاطاً امپھال مشرق اور مغرب ضلعوں میں کرفیو کی نرمی واپس لے لی۔ امپھال مشرق اور مغرب کے ضلع مجسٹریٹس نے گڑبڑ کے اندیشہ کے سبب دن کا کرفیو پھر سے نافذ کرنے سے متعلق الگ الگ احکامات جاری کیے۔
x
امپھال :منی پور میں بشنوپور ضلع کے کانگوئی اور پھوؤگاکچاؤ علاقہ میں دو طبقات میں تصادم کے بعد فوج یعنی آر پی ایف کے ذریعہ فوری کارروائی کی گئی ۔ جمعرات کو پھر تشدد بھڑک اٹھا۔پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شل برسائے۔ اس تصادم میں 17 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ کشیدہ ماحول کو دیکھتے ہوئے امپھال میں احتیاطاً کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امپھال مشرق اور امپھال مغرب کے ضلع مجسٹریٹ نے کرفیو میں دی گئی نرمی کو واپس لے لیا ہے۔ احتیاط کے طور پر آج پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ امپھال وادی میں رات کا کرفیو پہلے سے ہی نافذ ہے۔جمعرات کے روز ہوئے تصادم سے کچھ گھنٹے پہلے منی پور کے ہائی کورٹ نے چراچند پور ضلع کے ہاؤلائی کھوپی گاؤں میں اس مجوزہ مقام کو لے کر حسب سابق حالات بنائے رکھنے کا حکم دیا تھا، جہاں کوکی طبقہ کے لوگوں نے نسلی تشدد میں مارے گئے 35 افراد کی نعشوں کو دفنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایگزیکٹیو چیف جسٹس ایم وی مرلی دھرن نے صبح 6 بجے اس معاملے میں سماعت کے بعد یہ حکم دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بشنوپور ضلع میں ہزاروں مقامی افراد سیکورٹی فورسز کی آمد و رفت کو روکنے کیلئے سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ خواتین کی قیادت میں مقامی لوگوں نے بیریکیڈ کو پار کرنے کی کوشش کی اور مطالبہ کیا کہ انھیں دفن کے مقام توئی بونگ تک جانے کی اجازت دی جائے۔
دن کے وقت حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے احتیاطاً امپھال مشرق اور مغرب ضلعوں میں کرفیو کی نرمی واپس لے لی۔ امپھال مشرق اور مغرب کے ضلع مجسٹریٹس نے گڑبڑ کے اندیشہ کے سبب دن کا کرفیو پھر سے نافذ کرنے سے متعلق الگ الگ احکامات جاری کیے۔