منی پور میں پھر تشدد ‘میتئی برادری کے 3 افراد ہلاک

,

   

کئی گھر نذر آتش‘ بشنو پور میںحالات پھر بے قابو ہو گئے

امپھال:منی پور میں ایک بار پھر تشدد کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ خبروں کے مطابق جمعہ کی رات بشنو پور ضلع میں میتئی برادری کے3 لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ شرپسندوں نے کئی گھروں کو بھی آگ لگا دی۔ میڈیاکے مطابق بشنو پور پولیس نے بتایا کہ میتئی برادری کے تین لوگوں کا قتل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوکی برادری کے لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ بفر زون کو عبور کر کے میتئی کے علاقوں میں آئے اور میتئی کے علاقوں میں فائرنگ کی۔ مرکزی فورسز نے بشنو پور ضلع کے کواکٹہ علاقے سے دو کلومیٹر آگے ایک بفر زون بنایا ہے۔اطلاعات کے مطابق، بے قابو ہجوم نے بشنو پور ضلع میں دوسرے آئی آر بی یونٹ کی پوسٹوں پر حملہ کیا اور گولہ بارود سمیت کئی ہتھیار لوٹ لئے۔ منی پور پولیس نے کہا کہ ہجوم نے منی پور رائفلز کی بٹالین سے اسلحہ اور گولہ بارود چھیننے کی کوشش کی۔اس دوران مسلح افواج اور شرپسندوں کے درمیان فائرنگ بھی ہوئی۔ منی پور پولیس کا کہنا ہے کہ حالات پھر سے بے قابو ہو گئے ہیں۔ اسلحہ اور گولہ بارود لوٹ لیا گیا ہے۔ منی پور میں ذات پات کا تشدد سب سے پہلے 3 مئی کو شروع ہوا۔ ‘قبائلی یکجہتی مارچ’ کا انعقاد پہاڑی اضلاع میں میتئی برادری کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) میں شامل کرنے کے مطالبے کے خلاف احتجاج کے لیے کیا گیا۔ تشدد میں اب تک 160 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ میتئی برادری منی پور کی آبادی کا تقریباً 53 فیصد ہے اور وہ زیادہ تر وادی امپھال میں رہتے ہیں۔ کوکی اور ناگا برادری کی آبادی 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ لوگ پہاڑی اضلاع میں رہتے ہیں۔منی پور میں تشدد کی واقعات کے بعد حکومت کی جانب سے تمام کوششوں کے باوجود حالات قابو میں نہیں آ رہے ہیں جس پر اپوزیشن کی جانب سے تنقیدیں کی جارہی ہیں ۔