سپریم کورٹ کا از خود نوٹس‘ کلیدی ملزم گرفتار، وزیر اعظم نے کہا خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا،اپوزیشن کی شدید مذمت
امپھال: منی پور میں جاری تشدد کے درمیان دو قبائلی خواتین کو برہنہ پریڈ کراو نے کا شرمناک واقعہ پیش آیا ہے اور یہ معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔ لوگ وائرل ہونے والی ویڈیو سے حیران و ششدر ہیں جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر اس واقعہ کیلئے شدید تنقید کی ہے اور چیف منسٹرٰ این بیرین سنگھ کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔وہیں، خواتین کی برہنہ پریڈ کے معاملے میں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے واقعہ میں ملوث کلیدی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شخص کا نام کھوروم ہیراداس ہے اور اسے منی پور کے تھاوبل ضلع سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں اس نے سبز رنگ کی شرٹ پہن رکھی ہے۔ ہیراداس کی عمر 32 سال ہے، جس کی شناخت ویڈیو سے کی گئی ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے منی پور کے واقعہ پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی پور کی بیٹیوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کے مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ سے فون پر بات کی ہے۔ دریں اثنا، سپریم کورٹ نے منی پور کے اس سنسنی خیز معاملہ کا از خود نوٹس لیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ منی پور میں جو کچھ ہوا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ یہ پورے ملک کو شرمندہ کرنے جیسا ہے۔ میں تمام وزرائے اعلیٰ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ریاست کی ماؤں اور بیٹیوں کی حفاظت اور نظم و نسق کی صورت حال کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ چوکس رہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ منی پور کے واقعہ میں قصورواروں کو سخت ترین سزا ملے گی۔ خواتین کے ساتھ جو ہوا وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے درست نہیں ہے۔وہیں منی پور کے اس ہولناک واقعہ پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے ضروری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ ہم حکومت کو کارروائی کرنے کے لیے تھوڑا وقت دیں گے ورنہ ہم خود قدم اٹھائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق تشدد سے متاثرہ منی پور کی دو خواتین کو سڑک پر برہنہ گھمانے کی ایک چونکا دینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشتعل ہجوم نے نہ صرف متاثرہ خواتین کی پورے علاقے میں برہنہ پریڈ کروائی بلکہ انہیں اجتماعی عصمت دری کا بھی نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق عصمت دری اور مار پیٹ کے بعد خواتین بول بھی نہیں پا رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق منی پور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ 4 مئی کو پیش آیا۔ متاثرہ خواتین واقعہ کے دو ہفتے بعد پولیس اسٹیشن آئی اور شکایت درج کروائی۔ ساتھ ہی منی پور کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے معاملے کی تیزی سے جانچ کا حکم دیا ہے۔مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے اس واقعہ ک قابل مذمت اور سراسر غیر انسانی قرار دی ہے۔ قبائلی تنظیم انڈیجینس ٹرائبل لیڈرز فورم (آئی ٹی ایل ایف) کے ایک بیان کے مطابق، یہ واقعہ ریاست کے دارالحکومت امپھال سے تقریباً 35 کلومیٹر دور کانگ پوکپی ضلع میں 4 مئی کو پیش آیا۔ اس واقعے سے ایک روز قبل دو برادریوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا تھا۔آئی ٹی ایل ایف نے قومی کمیشن برائے خواتین اور قومی انسانی حقوق کمیشن سے اس معاملے میں کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ خیال رہے کہ منی پور میں نسلی تشدد کے بعد 4 مئی سے انٹرنیٹ بند ہے۔ ریاست میں اب بھی تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ تشدد میں اب تک 120 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں، جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
