خانگی کالجس کی ہڑتال پر برہمی ، طلبہ کی زندگی سے کھلواڑ ناقابل برداشت، تعلیم کو تجارت بنانے کا الزام، فیس ری ایمبرسمنٹ مرحلہ وار جاری کرنے کا تیقن
حیدرآباد ۔ 7۔نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات کے مسئلہ پر خانگی تعلیمی اداروں کی ہڑتال پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی زندگی سے کھلواڑ کرنے والے تعلیمی ادارے اور سیاسی پارٹیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کی ہڑتال کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کے بقایہ جات مرحلہ وار طور پر جاری کرے گی اور اس سلسلہ میں کالجس کے انتظامیہ کو واقف کرایا گیا ہے ۔ باوجود اس کے ہڑتال کے ذریعہ طلبہ کی زندگی سے کھلواڑ کرنا ٹھیک نہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بقایہ جات آج نہیں تو کل وصول ہوجائیں گے لیکن کالجس کو بند رکھتے ہوئے طلبہ کے تعلیمی نقصان کی پابجائی کیسے کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کے پاس فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ تمام طبقات کی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ریاست میں ہر ماہ 18 ہزار کروڑ کی آمدنی سرکاری خزانہ کو حاصل ہورہی ہے۔ تنخواہوں ، سود کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کے بعد محض 5000 کروڑ بچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پانچ ہزار کروڑ سے ریاست کو کیسے چلایا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر نے خانگی کالجس پر حکومت کو بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تعلیمی ادارے بند رکھنے والوں سے مذاکرات کیوں کئے جائیں ؟ کونسا کالج کتنا ڈونیشن لے رہا ہے میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔ کالجس میں قواعد کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔ من مانی فیس طلبہ سے وصول کی جا رہی ہے ۔ تعلیم کوئی تجارت نہیں ہے بلکہ اسے سماج کی خدمت تصور کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سیاسی قائدین کی آڑ میں طلبہ کے ساتھ کھلواڑ کرنا ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خانگی کالجس من مانی فیس میں اضافہ کرتے ہوئے حکومت سے فیس ری ایمبرسمنٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کالجس کی اجازت کے سلسلہ میں کئی بے قاعدگیاں کی گئیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کالجس کا انتظامیہ کیا حکومت کو بلیک میل کرے گا ؟ انہوں نے کہا کہ بی سی لیڈر آر کرشنیا اور مندا کرشنا مادیگا بھی تعلیمی اداروں کے جال میں پھنس چکے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میں تمام تفصیلات دینے کیلئے تیار ہوں۔ چار ماہ تک حکومت چلاکر دکھائیں۔ چیف منسٹر نے ہڑتال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اس طرح کا تماشہ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ حکومت مرحلہ وار طور پر بقایہ جات جاری کرنے کیلئے تیار ہے لیکن طلبہ کیلئے مشکلات پیدا کرنا ناقابل برداشت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا رویہ ایسا ہے جیسے سابق میں بقایہ جات کا کوئی مسئلہ نہ رہا ہو ۔ کالجس کی منظوری میں بے قاعدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ارورا کالج کے رمیش کو کتنے کالجس کی منظوری چاہئے ۔ حکومت سے تعاون کرنے کے بجائے ہڑتال کرنا ٹھیک نہیں۔ چیف منسٹر نے انتباہ دیا کہ آئندہ سال کالجس طلبہ سے کتنا ڈونیشن حاصل کریں گے، حکومت دیکھے گی۔ ڈونیشن لینے والے فیس کا مطالبہ نہ کریں۔1