حیدرآباد۔21مئی (سیاست نیوز) موبائیل فون کے پرزوں اور دیگر متعلقہ اشیاء کی قیمتو ںمیں من مانی اضافہ کرتے ہوئے فروخت کیا جا رہاہے اور اس پر قابو پانے کے اقدامات کے سلسلہ میں کوئی محکمہ جاتی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ جگدیش مارکٹ میں ہول سیل تاجرین کی جانب سے کی جانے والی من مانی سے موبائیل فون ٹیکنیشن اور گاہکوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے بعد فراہم کی جانے والی راحت کے ساتھ ہی اگر کسی بازار میں لوٹ کھسوٹ شروع کی گئی ہے تو وہ موبائیل فون مارکٹ ہے ۔ موبائیل فون کوور‘ اسکرین گارڈ کے علاوہ دیگر پرزے چین سے آتے ہیں اور لاک ڈاؤن سے پہلے سے ہی چین سے یہ اشیاء آنی بند ہوچکی ہیں جس کے سبب ان اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا اور کہا جارہا ہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران ان میں مزید اضافہ کیا جائے گا اسی لئے عوام کو لوٹ کھسوٹ سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ریاستی حکومت بالخصوص محکمہ پولیس کی جانب سے قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام پر عائد ہونے والے بے وجہ بوجھ سے انہیں محفوظ کیا جاسکے۔ان اشیاء کی فروخت کرنے والوں میں راجستھان کے تاجرین کی بڑی تعداد موجود ہے جو کہ جگدیش مارکٹ میں کاروبار کررہی ہے اور اب جبکہ لاک ڈاؤن میں راحت کے ساتھ کاروبار کی اجازت دی گئی ہے تو ان کی لوٹ کھسوٹ اور من مانی قیمتوں کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا جاچکا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ان راجستھانی تاجرین کی جانب سے کی جانے والی من مانی کا منفی اثر ان مسلم نوجوانوں پر پڑنے لگا ہے جو کہ موبائیل ٹیکنشین کی حیثیت سے مارکٹ میں بیٹھ کرروزمرہ کی آمدنی حاصل کر رہے ہیں ۔ گاہک یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان ٹیکنیشنوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہول سیل تاجرین جو کہ چین اور ممبئی سے سامان لاکر فروخت کرتے ہیں ان لوگوں نے اپنے پاس موجود اشیاء کو من مانی قیمتوں میں فروخت کرنا شروع کردیا ہے اور اس کے لئے چین کے حالات کو ذمہ دار قرار دیا جار ہاہے اور کہا جار ہاہے کہ شہر حیدرآباد میں جو سامان پہنچتا ہے اس میں 60 فیصد سے زیادہ سامان چین سے منگوایا جاتا ہے اور فی الحال جو صورتحال ہے ایسی صور ت میں چین سے سامان منگوایا جانا بے انتہاء مشکل ہے اسی لئے ہول سیل تاجرین نے من مانی قیمتیں وصول کرنی شروع کردی ہیں جبکہ کسی بھی شئے کو اس کی قیمت سے زیادہ میں فروخت کرنا قانونی اعتبار سے جرم ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی گنجائش موجود ہے اسی لئے محکمہ اوزان و پیمائش کے علاوہ محکمہ پولیس کو متحرک ہوتے ہوئے ان تاجرین کو من مانی کرنے سے روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی اس من مانی کے سبب عوام کو معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور تاجرین اپنے پاس موجود اشیاء کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اضافی قیمتوں پر فروخت کررہے ہیں۔