الیکٹرانک اشیاء کی بروقت درستگی پر توجہ نہ دینے سے اشیاء خراب ہونے کا امکان
حیدرآباد۔18مئی (سیاست نیوز) ملک میں روزانہ لاکھوں الکٹرانک اشیاء خراب ہوتی ہیں اور بنائی جاتی ہیں لیکن لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران خراب ہونے والی الکٹراک اشیاء شائد اب کبھی کارکرد نہ ہوسکیں گی کیونکہ الکٹرانک اشیاء جب خراب ہوتی ہیں تو فوری ان کی مرمت کئے جانے پر وہ درست ہوسکتی ہیں لیکن اگر انہیں طویل مدت تک ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے تو ان کی مرمت میں بھی دشواریاں ہوتی ہیں اور بعض اشیاء تو ہمیشہ کیلئے بند ہوجاتی ہیں کیونکہ ایک خرابی کے سبب مسلسل بند رہنے کے بعد دیگر پرزے بھی غیر کارکرد ہونے لگتے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں موبائیل کے علاوہ ٹیلی ویژن ‘ ریفریجریٹر‘ واشنگ مشین اور دیگر الکٹرانک اشیاء کی مرمت کرنے والے کئی افراد موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یومیہ اساس پر صرف شہر حیدرآباد میں ہزاروں موبائیل مرمت کے لئے بازارلائے جاتے ہیں اسی طرح سینکڑوں ریفریجریٹراور دیگر الیکٹرانک اشیاء مرمت کے لئے لائی جاتی ہیں لیکن لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران الیکٹرانک اشیاء کی مرمت نہیں کئے جانے کے سبب لاکھوں موبائیل ‘ ٹیلی ویژن ‘ مکسر‘ گرائنڈر‘ واشنگ مشین‘ ریفریجریٹر کے علاوہ دیگر الکٹرانک اشیاء مکمل طور پر غیر کارکرد ہونے کا خدشہ ہے اور ان خدشات کی توثیق کرتے ہوئے مسٹر محمد عبدالجنید نے بتایا کہ الکٹرانک اشیاء بالخصوص موبائیل اگر کسی وجہ سے بند ہوجاتا ہے اور اس کی فوری مرمت نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں یہ فون دوبارہ کارکرد ہونا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ مسلسل بند ہونے کے سبب دیگر پرزے بھی غیر کارکرد ہونے لگتے ہیں۔ مسٹر مرزا اجمل بیگ ببلو نے بتایا کہ جگدیش مارکٹ میں عام دنو ںمیں روزانہ 3000 سے زائد موبائیل مرمت کے لئے لائے جاتے ہیں بلکہ اس سے کافی زیادہ تعداد میں بھی موبائیل مرمت کے لئے لائے جاتے ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے سبب موبائیل مرمت کے لئے نہیں لائے جارہے ہیں اور نہ ہی کاریگروں کو کام مل رہا ہے جس کی وجہ سے موبائیل ٹیکنیشن بھی کافی پریشان ہیں اور جن لوگوں کو الکٹرانک اشیاء کی مرمت کے لئے ٹیکنیشن دستیاب نہیں ہورہے ہیں ان لوگو ںکو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔