موبائیل فون کے اکثر سارقین تعلیم یافتہ ، خوشحال گھرانوں سے تعلق

   

پُرتعیش زندگی کیلئے غلط طریقہ سے آمدنی،ایک سال میں 50 ہزار موبائیل فونس کا سرقہ
حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) شہر میں موبائیل فون کے سارقین پولیس کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ایک طرف موبائیل کے سارقین کو گرفتار کرنے میں پولیس کو دشواریوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف موبائیل سرقہ کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ بیشتر موبائیل سارقین کا تعلق سماج کے خوشحال گھرانوں سے ہے اور وہ اپنے لائف اسٹائیل کی ضروریات کی تکمیل کیلئے اس طرح کے جرائم میں ملوث ہیں۔ موبائیل فون کے سرقہ کے ذریعہ یہ نوجوان اپنی روز مرہ کی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں۔ 31 اگسٹ کو گنیش چتورتھی کے دن حیدرآباد میں 327 موبائیل فون سرقہ کی شکایات پولیس کو موصول ہوئی ہیں۔ سیف آباد پولیس کو 134 موبائیل فونس کے سرقہ کی شکایات ملیں اور ان میں سے بیشتر افراد وہ ہیں جنہوں نے خیریت آباد میں واقع گنیش پنڈال پہنچ کر درشن کئے تھے اس وقت ان کے موبائیل فون کا سرقہ کرلیا گیا۔ گزشتہ کئی برسوں سے اہم مواقع اور تہواروں کے موقع پر موبائیل فون کے سرقہ کے واقعات میں اضافہ کا رجحان ہے۔ ہجوم کا فائدہ اٹھا کر یہ سارق موبائیل فونس اُڑالیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر پُرہجوم بسوں اور مارکٹس کے علاوہ بڑے جلسوں اور تقاریب میں اسمارٹ فونس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان اور ایسے نوجوان جو پُرتعیش زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں وہ موبائیل کے سارق بن رہے ہیں اور یہ رجحان پولیس کیلئے چیلنج سے کم نہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر سال کم از کم 50 ہزار موبائیل فونس کا سرقہ کیا جاتا ہے۔ یہ سارقین پرس اور گولڈ چین سے زیادہ موبائیل فونس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بعض منظم گروپس سرگرم پائے گئے۔ حال ہی میں موبائیل فون کے سارقین کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیقات پر پتہ چلا کہ سارقین اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور خوشحال خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ شراب، گانجہ اور بری عادتوں کی تکمیل کیلئے موبائیل فونس کا سرقہ کیا جارہا ہے۔ ان کیلئے موبائیل فون کا سرقہ فوری آمدنی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پولیس خاطیوں کا پتہ چلارہی ہے۔ زیادہ تر کیسس میں پولیس ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے ان کی کونسلنگ کو ترجیح دی جارہی ہے۔ گاڑیوں، سیل فونس اور دیگر اشیاء کے سرقہ کے معاملہ میں ایف آئی آر درج کرنے کی صورت میں پولیس اسٹیشن میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں بڑی حد تک اضافہ سے بچنے کیلئے پولیس اپنے طور پر معاملات کو حل کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔ ر