50 فیصد سے بھی کم خواتین کے پاس موبائیل، قومی سروے میں انکشاف
حیدرآباد۔ موبائیل کے استعمال کے سلسلہ میں ملک بھر میں کئے گئے سروے کے مطابق آندھرا پردیش میں 50 فیصد سے کم خواتین کے پاس موبائیل فون موجود ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائیل اسوسی ایشن آف انڈیا کی جانب سے حال ہی میں کئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آندھرا پردیش انٹرنیٹ کے استعمال میں دوسری ریاستوں سے پیچھے ہے۔صرف 31 فیصد افراد انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خواتین میں موبائیل فونس کی کمی کے سبب انٹرنیٹ کے استعمال کا رجحان کم درج کیا گیا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلت سروے کے مطابق آندھرا پردیش میں صرف 48.9 فیصد خواتین کے پاس موبائیل فون ہے۔ 22 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں یہ سروے کیا گیا جس میں گجرات کے بعد آندھرا پردیش سب سے کم انٹرنیٹ استعمال والی ریاست بن کر اُبھری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں صرف 40.9 فیصد خواتین کے پاس موبائیل فون کی سہولت ہے جبکہ شہری علاقوں میں 67.4 فیصد خواتین موبائیل فون استعمال کرتی ہیں۔ شہری علاقوں میں خواتین میں موبائیل فون کے استعمال کے معاملہ میں آندھرا پردیش ملک کی چوتھی کم استعمال والی ریاست کے طور پر اُبھری ہے۔ تریپورہ اور گجرات کے بعد آندھرا پردیش کے دیہی علاقوں میں موبائیل فون کا استعمال خواتین میں سب سے کم ہے۔ شہری علاقوں میں تریپورہ 66.2 فیصد موبائیل فون کے استعمال میں سرفہرست ہے۔ گجرات میں 66 فیصد، بہار میں 61.8 اور آندھرا پردیش میں 67.4 فیصد موبائیل فون کا پایا گیا ہے۔ دیہی علاقوں میں تریپورہ 39.1 ، گجرات 36 اور آندھرا پردیش میں 40.9 فیصد خواتین میں موبائیل فون کا استعمال ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں مجموعی طور پر گجرات میں 48.8 اور آندھرا پردیش میں 48.9 فیصد موبائیل فون کا استعمال ہوتا ہے۔