تہران : ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر رافائل گروسی نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنے نیوکلیئر ٹھکانوں کے سیکورٹی کیمروں کی فوٹیج آئی اے ای اے کے حوالے کرنے سے انکار ،،، ایک خطرناک تصرف ہے جس کے سنگین بین الاقوامی اثرات ہوں گے۔ گروسی نے باور کرایا کہ ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایران میں کام کرتے ہوئے مشکل حالات کا سامنا ہوا۔ گروسی نے خبردار کیا کہ یہ صورت حال زیادہ طویل عرصے جاری نہیں رہ سکتی۔ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے چہارشنبہ کے روز بتایا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ “ہم شدید ابر آلود بادلوں کے بیچ اڑ رہے ہیں … ہم عارضی طور پر اس صورت حال کو جاری رکھ سکتے ہیں مگر طویل مدت کے لیے نہیں”۔گلاسگو میں موسمیات سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ اجلاس کے ضمن میں گروسی کا کہنا تھا کہ “اگر انہوں (ایرانیوں) نے پر امن مقاصد کے لیے اپنا نیوکلیئرپروگرام جاری رکھنا کا سنجیدہ ارادہ کیا ہے تو ان پر لازم ہے کہ اس بات کی ضمانت پیش کریں”۔ گروسی کے مطابق نیوکلیئرتنصیبات کے گرد سخت سیکورٹی اقدامات کے نتیجے میں ایجنسی کے معائنہ کاروں کو بعض اوقات مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ براہ راست اور اعلی سطح کی بات چیت کے واسطے جلد تہران کا دورہ کریں گے۔ یاد رہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو یہ ذمے داری سونپی گئی تھی کہ وہ2015ء میں طے پانے والے نیوکلیئرمعاہدے کی نگرانی کرے۔ یہ سمجھوتہ مشترکہ جامع عملہ منصوبے کے نام سے معروف ہے۔ اس کا مقصد ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کے عوض تہران کی جوہری سرگرمی پر قدغن لگانا ہے۔تاہم سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں مئی 2018ء میں امریکہ نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علاحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سے کئی پابندیاں عائد کر دیں۔ ادھر ایرانی حکام بھی معاہدے کے متن میں درج شقوں سے دست بردار ہونا شروع ہو گئے۔آئی اے ای اے کے معائنہ کار فروری 2021ء سے اب تک ایران کے نیوکلیئرٹھکانوں کے سیکورٹی کیمروں یا یورینیم کی افزودگی کی برقی نگرانی کی تصاویر حاصل نہیں کر سکے ہیں۔