موجودہ معاشی صورتحال چیلنجنگ : سدانند گوڑ

   

= ہندوستان نے اس سے بھی زیادہ چیلنجنگ زمانہ دیکھا ہے لیکن ہم نے شاندار واپسی کی تھی
= مودی حکومت کے 100 دنوں کی تکمیل پر منعقدہ تقریب میں اخباری نمائندوں سے بات چیت

بنگلورو ۔ 12 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڑا نے جمعرات کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجود معاشی صورتحال چیلنجنگ ہے تاہم انہوں نے یہ توقع بھی ظآہر کی ہے کہ مرکزی حکومت سے جو اقدامات کئے ہیں، اس کی روشنی میں ہندوستان ایک بار پھر قلیل عرصہ میں ہی معاشی صورتحال پر قابو پالے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2008-09 ء میں بھی ملک نے ہم نے عالمی کساد بازاری کو دیکھا تھا لیکن معاشی کساد بازاری کے وقت انتظامی مشینری نے جو اقدامات کئے تھے ، وہ اہمیت کے حامل تھے کیونکہ ان اقدامات نے ہی اہم رول ادا کیا تھا ۔ میں یہ بات مانتا ہوں کہ ہماری جی ڈی پی 8-2 فیصد تھی جواب مزید گھٹ کر 5 فیصد ہوگئی ہے جو یقیناً انتظامیہ کیلئے ایک چیلنج ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے ان اقدامات کی جانب اشارہ کیا جہاں آٹو موبائیل سیکٹر ، بینکوں کو مالیہ کی فراہمی اور ایم ایس ایم ای کو لاحق تحلیل کئے جانے کے اقدامات ایسے ہیں جو معاشی عدم استحکام کو ایک بار پھر سنبھالا دے سکتے ہیں ۔ اتنے قلیل وقت میں ڈھیر سارے اصلاحی اقدامات کا سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا ۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہندوستان نے اس سے بھی زیادہ چیلنجنگ زمانہ دیکھا ہے لیکن پھر ہماری شاندار واپسی بھی ہوئی تھی ۔ نریندر مودی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کی ایک تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوڑا نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتوں کے جتنے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں گے وہ ملک کے معاشی سیکٹر کے لئے اتنے ہی زیادہ منفعت بحش ثابت ہوں گے ۔ علاوہ ازیں حکومت مدرالون اسکیم کے تحت شخصی ملازمتوں ( اپنی نوکری آپ) کے مواقع بھی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ کرناٹک کے لئے مرکزی فنڈس جاری کرنے میں تاخیر سے مطابق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فنڈس عنقریب جاری کئے جائیں گے لیکن قطعی دن اور تاریخ نہیں بتائی ۔ یاد رہے کہ ریاست کرناٹک کو حالیہ شدید بارش اور سیلاب سے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ سدانند گوڑا کا تعلق بھی ریاست کرناٹک سے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب سے 22 اضلاع کے 103 تعلقوں کو شدید نقصان پہنچا تھا اور حکومت کرناٹک نے راحت کاری کیلئے مرکزی حکومت سے 38,000 کروڑ روپئے کی امداد طلب کی ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن قائدین کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ کرناٹک سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء اور ایم پیز کے پاس اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ وہ وزیراعظم سے یہ استفسار کرسکیں کہ مرکزی فنڈس کو منظور کرنے میں اتنی زیادہ تاخیر کیوں ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہر چہارشنبہ کے روز ہونے والے کابینی اجلاس میں وزراء اپنی اپنی ریاستوں سے متعلق وزیراعظم سے راست استفسار کرتے ہیں۔