انتخابی مہم ’ ٹارگٹ کانگریس ‘ تک ہی محدود ، مجلس کے نشانہ پر بھی کانگریس، اسٹیج الگ الگ لیکن الزامات اور دعوے یکساں
حیدرآباد۔/5 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ کی مہم عروج پر ہے اور جیسے جیسے رائے دہی کی تاریخ قریب آرہی ہے سیاسی صف بندیوں کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں انتخابی ماحول کے آغاز کے ساتھ ہی یہ تصور کیا جارہا تھا کہ مقابلہ سہ رُخی رہے گا لیکن پرچہ نامزدگی کے ادخال کے آغاز کے ساتھ ہی منظر تبدیل ہوچکا ہے۔ بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی میں سہ رُخی مقابلہ کے بجائے یہ مقابلہ دو رُخی ہوچکا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ تینوں میں کوئی ایک پارٹی مقابلہ سے دستبردار ہوچکی ہو بلکہ تین پارٹیوں میں دو رُخی مقابلہ نئے انداز کا ہے جس میں ایک طرف کانگریس تو دوسری طرف بی آر ایس اور بی جے پی ایک ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک ماہ قبل تک بھی صورتحال یہ تھی کہ بی آر ایس اور کانگریس کے ساتھ ساتھ بی جے پی بھی تشکیل حکومت کی دعویداری پیش کررہی ہے تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بی جے پی کیلئے چناوی سفر کٹھن اور صبرآزما بنتا جارہا ہے کیونکہ کئی سرکردہ قائدین نے پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا یا پھر انتخابی سرگرمیوں سے دور ہوگئے۔ بی جے پی نے جب یہ محسوس کرلیا کہ وہ تشکیل حکومت کی دوڑ کے قابل نہیں رہی لہذا اس نے بی آر ایس کا دامن غیر محسوس طریقہ سے تھام لیا ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی اگرچہ عوام کے درمیان آپس میں مفاہمت یا دوستی سے صاف انکار کررہے ہیں لیکن دونوں پارٹیوں کی انتخابی حکمت عملی خفیہ مفاہمت اور دوستی کے واضح طور پر اشارے دے رہی ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کانگریس کو برسراقتدار آنے سے روکا جائے۔ ’’ ٹارگٹ کانگریس‘‘ کے اس مشن میں بی آر ایس کی حلیف مقامی جماعت مجلس بھی شامل ہوچکی ہے تاکہ شہیدوں میں اپنا نام شامل کرسکے۔ اگر نتائج کے بعد کانگریس اقتدار کے حصول میں ناکام رہتی ہے تو بی آر ایس پر بی جے پی کے ساتھ احسان جتانے میں مقامی جماعت بھی پیش پیش رہ سکتی ہے جس کی آڑھ میں اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل ہوجائے گی۔ سیاسی مفاہمت سے بھلے ہی انکار کریں لیکن بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کا نشانہ صرف اور صرف کانگریس پارٹی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر اور ان کے دو سپہ سالار کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، بی جے پی قائدین اور مقامی جماعت کے صدر اسد اویسی کی تقاریر کا بنیادی نقطہ کانگریس کی مخالفت ہے۔ ان تینوں کیلئے کانگریس پارٹی مشترکہ دشمن کا موقف رکھتی ہے اور تینوں کا یہ احساس ہے کہ آپسی اختلافات کے بجائے ووٹ تقسیم ہونے سے بچاتے ہوئے کانگریس کو برسراقتدار آنے سے روکا جائے۔ تینوں پارٹیوں کی مہم کے نتیجہ میں کانگریس پارٹی کو یکا و تنہا کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ کے سی آر اور ان کے سپہ سالار جس طرح اضلاع میں گھوم گھوم کر کانگریس کو ٹارگٹ بنارہے ہیں اسی طرح صدر مجلس نے بھی اضلاع کے دوروں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور وہ شہر کے اپنے اسمبلی حلقہ جات میں مہم کے علاوہ اقلیتی آبادی والے اضلاع میں عام جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو بی آر ایس سے قریب کرنے کی کوشش کریں گے۔ مبصرین کے مطابق تلنگانہ کے رائے دہندے سابق کے مقابلہ زیادہ باشعور ہوچکے ہیں اور وہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ رائے دہندوں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کیلئے بی جے پی انتخابی مہم میں بی آر ایس کو بھی نشانہ بنارہی ہے لیکن بی آر ایس پر تنقید محض ضابطہ کی تکمیل کے طور پر ہے اور الزامات میں ان کی دو رُخی پالیسی بے نقاب ہورہی ہے۔ کے سی آر اور ان کے افراد خاندان پر کرپشن کا الزام عائد کیا جاتا ہے لیکن مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں خاموش ہیں۔ بی جے پی کی نظر اقتدار پر ضرور ہے لیکن وہ معلق اسمبلی کے راستہ حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ میں بی جے پی کو اقتدار کا مزہ چکھنے کا ایک مرتبہ بھی موقع نہیں ملا شاید نئی ریاست تلنگانہ میں وہ حکومت میں شمولیت کی راہیں تلاش کررہی ہے، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب عوام کا فیصلہ منتشر رہے۔ تلنگانہ نے آج تک دو انتخابات کا سامنا کیا اور دونوں میں بی آر ایس کو اکثریت حاصل ہوئی اور معلق اسمبلی کا کوئی امکان نہیں رہا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ تلنگانہ میں معلق اسمبلی کے امکانات انتہائی کم ہیں کیونکہ عوام نے ہمیشہ کسی ایک پارٹی کے حق میں واضح فیصلہ سنایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ’ ٹارگٹ کانگریس‘ نشانہ کے تحت تینوں پارٹیوں کی تنہا لیکن مشترکہ مہم کس حد تک کانگریس پر اثر انداز ہوگی۔