نئی دہلی: کانگریس کے دہلی انچارج قاضی محمد نظام الدین نے منگل کو عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے کنوینر اروند کجریوال پر ’’موقع پرست‘‘ اور ’’جابرانہ‘‘ ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ کی بھی یہی سوچ ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عآپ اور بی جے پی دونوں کے اتحاد کی وجہ سے دہلی تباہ ہو رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مدد کرنے کے کانگریس کے خلاف اے اے پی کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے نظام الدین نے کہا کہ ان کی پارٹی جیتنے کے لیے الیکشن لڑ رہی ہے اور 11 سال بعد قومی دارالحکومت میں اقتدار میں واپس آنے کی امید ہے۔ عملی طور پر کانگریس کے خزانچی اجے ماکن کے حالیہ بیان کی حمایت کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ کسی ایسے شخص (کجریوال ) کے ساتھ رہنا ایک غلطی سمجھی جائے گی جو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ عوام سے جھوٹ بولتا ہو۔ ماکن نے حال ہی میں کہا تھا کہ گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد بنانا کانگریس کی غلطی تھی۔ اے اے پی کے بی جے پی کی مدد کرنے کے الزامات پر کانگریس لیڈر نظام الدین نے کہا کہ ہندوستان کا ہر بچہ کہہ سکتا ہے کہ راہول گاندھی جی، ملیکارجن کھرگے جی اور ہمارے ہر عہدیدار بی جے پی سے لڑتے ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ کانگریس بی جے پی کی مدد کر رہی ہے تو یہ مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج صرف راہول گاندھی جی مودی جی کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ماکن کے اس بیان سے متفق ہیں کہ عآپ کے ساتھ اتحاد ایک غلطی تھی، پارٹی کے دہلی انچارج نے کہا کہ اتحاد کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔
لوک سبھا انتخابات کے وقت ایک بڑا مقصد تھا۔ ملک کے عوام 10 سال سے مودی جی اور بی جے پی کو جھیل رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پارٹی جو اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتی، جو عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کرتی، اسے الیکشن لڑنے کا حق نہیں ہے۔ کجریوال جی نے دہلی اور پنجاب کے لوگوں سے جھوٹ بولا…کسی بھی موقع پر، کسی ایسے شخص کے ساتھ رہنا جو عوام سے بہت زیادہ جھوٹ بولتا ہے، اسے غلطی سمجھا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عآپ اور بی جے پی دونوں کانگریس سے خوفزدہ ہیں، اس لیے وہ اسے مقابلے سے باہر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔