نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جان بوجھ کرغلطیاں کرتے ہیں اور انہوں نے نوٹ بندی کر کے جو گھاؤ دیے ہیں ، ملک کے عوام چوٹ کو بھولے نہیں ہیں ۔راہول گاندھی نے منگل کو یہاں جاری ایک بیان میں کہاکہ8نومبر 2016 کو نوٹ بندی کے نام پر ملک کو اچانک لائن میں کھڑا کر دیا گیا، لوگ اپنے ہی پیسے نکالنے کے لیے ترس گئے ، کئی گھروں میں شادیاں تھیں ، بچوں اور بزرگوں کے علاج چل رہے تھے ، حاملہ خواتین تھیں لیکن لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے ، گھنٹوں قطار میں کھڑا رہنے کی وجہ سے کئی لوگوں کی موت ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے اس نوٹ بندی کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا‘‘2022 میں ریزرو بینک کے حوالے سے خبرآئی کہ بینک میں پہنچے 500 کے 101.91 فیصد اور دوہزار کے 54.16 فیصد سے زائد نوٹ نقلی ہیں ۔ اس طرح سے 2016 میں جہاں 18 لاکھ کروڑ روپے ‘کیش ان سرکولیشن ، میں تھے ،وہیں آج 31 لاکھ کروڑ ‘کیش ان سرکولیشن’میں ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ آپ کے ‘ڈیجیٹل انڈیا’، ‘کیش لیس انڈیا’، کا کیا ہوا، وزیر اعظم جی ۔نوٹ بندی کے وقت میں نے کہا تھا کہ یہ ایک ’قومی المیہ‘ ہے ۔ خوش فہمی میں نہ رہیں ۔ مودی جی سے غلطی نہیں ہوئی ، یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ ’مودی متر‘ سرمایہ داروں کے لاکھوں کروڑوں روپے کے قرض عام لوگوں کے پیسے سے معاف کیے جا سکیں اور ان کے کالے دھن کو سفید کیا جا سکے ۔کانگریس لیڈر نے مودی کے فیصلوں کو آمرانہ قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘راجہ کے ایک آمرانہ فرمان نے عوام کو ناقابل فراموش چوٹ دی ہے ، ملک نوٹ بندی کے درد کو کبھی نہیں بھولے گا۔