پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پروفیسر اروند پنا گاریہ وزیراعظم نریندر مودی کے انتہائی پسندیدہ ماہر اقتصادیات ہیں ۔ وہ دہلی میں اُن کے انتہائی قریبی دوست ایک فلسفی اور رہنما ہیں۔ اُن کے بارے میں راقم الحروف آپ کو یہ بتانا چاہے گا کہ پروفیسر اروند نیتی آیوگ ( سابقہ منصوبہ بندی کمیشن ) کے پہلے نائب صدرنشین رہے (اُن کی معیاد جنوری 2015 ء تا اگسٹ 2017 ء تک رہی ) انھوں نے ہندوستان کے G-20 شیرپا کی حیثیت سے بھی (2015-2017) نمایاں خدمات انجام دیں۔
مودی اور اُن کی حکومت سے پروفیسر اروند کی قربت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں اپریل 2023 ء میں نالندہ یونیورسٹی کا چانسلر مقرر کیا گیا اور ڈسمبر 2023 ء میں 16 ویں فینانس کمیشن کا سربراہ بنایا گیا۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کئی ایک ٹاسک فورس کی قیادت کا فریضہ بھی انھوں نے بخوبی انجام دیا۔ این ڈی اے حکومت میں طویل عرصہ سے اُن کی موجودگی قابل ستائش ہے ۔یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہوگا کہ وہ کولمبیا یونیورسٹی میں Tenured Professor ہیں اور اپنے استاذ ڈاکٹر جگدیش بھگوتی کے نقشِ قدم پر چلنے والی آزاد و فراخدلانہ تجارت کیلئے اُن کی غیرمتزلزل وابستگی کی بناء پر ستائش کرتا ہوں چونکہ وہ مسٹر نریندر مودی کے وفادار حامی ہیں اس لئے اُن کی تنقید عام طورپر ’’شاباش دل مانگے مور ‘‘ کے انداز میں چھپی ہوئی ہوتی ہے ۔
2025 ء کوئی اصلاحات نہیں : اپنے ایک حالیہ مضمون میں پروفیسر اروند پنا گاریا نے مودی حکومت کی زبردست تعریف و ستائش کرتے ہوئے کچھ یوں لکھا : ’’سال 2025 ء کو تاریخ میں ہمارے ملک میں معاشی اصلاحات کے سال کے طورپر یاد رکھا جائے گا ‘‘ ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے مودی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے جس طرح سال 2025 ء کو اقتصادی لحاظ سے ہندوستانی تاریخ کا یادگار سال قرار دیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سال 2025 ء میں معاشی اصلاحات نہ کے برابر تھیں۔ اگر اس ضمن میں ذرائع ابلاغ اور پارلیمانی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ 2025ء میں معاشی اصلاحات کے نام پر کوئی قابل ذکر قدم نہیں اُٹھایا گیا ۔ مثال کے طورپر جی ایس ٹی کی شرحوں کو سادہ و آسان بنانا اور اُن میں کمی لانا ۔ دراصل جولائی 2017 ء میں کی گئی بنیادی بلکہ ایک بڑی غلطی کو درست کرنا تھا ۔ ٭ کسٹمز ڈیوٹی میں عقلی ترتیب دینا بھی اصل میں کسٹمز ڈیوٹی میں مسلسل اضافہ اور اینٹی مائننگ و حفاظتی محصولات کیلئے بے تحاشہ استعمال کی اصلاح تھی جن کے ذریعہ تحفظ پسند پالیسیوں کو فروغ دیا گیا ٭ لیبر قوانین ( مزدور یا محنت کشوں سے متعلق قوانین ) کو یکجا کرنا اور جان بوجھ کر سرمایہ کے حق میں توازن کو جھکانے کی کوشش تھی (حالانکہ یہ پہلے ہی سے فائدہ میں چل رہا تھا ) اور اس کی تمام ٹریڈ یونینوں کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی جن میں حکمراں بی جے پی کی سرپرستی میں کام کرنے والی بھارتیہ مزدر سنگھ (BMS) بھی شامل ہے اور ناقابل تلفظ VBG-RAM-G قانون کا نافذ کسی اصلاح کی بجائے دنیا کے سب سے بڑے کام معہ بہبودی پروگرام کو تباہ کرنے کے مترادف تھا ۔ جس نے دیہی علاقوں کے غریبوں میں شامل 8.6 کروڑ جاب کارڈ ہولڈرس کی زندگیوں اور روزگار کو سہارا دیا تھا ۔
منریگا کے ذریعہ یوپی اے حکومت نے دیہی غریب و بیروزگار مردو خواتین کی زندگیوں میں ایک مثبت معاشی انقلاب برپا کیا تھا ۔ پروفیسر اروند چونکہ مودی جی سے قربت رکھتے ہیں اس لئے انھوں نے سال 2025 ء کو تاریخی و یادگار معاشی اصلاحات کا سال قرار دیا لیکن راقم الحروف پورے احترام اور وقار کے ساتھ 2025ء میں کسی ایسی معاشی پالیسی یا معاشی اصلاحات کی نشاندہی نہیں کرسکتا جو واقعی کسی بڑی اقتصادی اصلاح کے زمرے میں آتی ہو حقیقت میں دیکھا جائے تو حکومت پر ایک لطیف طنز کرتے ہوئے پروفیسر اروند نے 6 اقدامات کی ایسی فہرست دی ہے جو حکومت کو 2026 ء میں کرنے چاہئے ۔ یہ ایجنڈہ گزشتہ 11 برسوں میں حکومت کے اصلاحات مخالف رویہ کا فرد جرم ہے ۔ یہ ایسے ہی جیسے کوئی سکہ کو بڑی چالاکی سے پلٹتا ہو ۔ یہ کہتے ہوئے پروفیسر اروند نے دراصل یہ تسلیم کرلیا ہے کہ اب تک کا نتیجہ ’’صفر ‘‘ ہی رہا ہے ۔
معمولی مشورہ : آئیے پروفیسر اروند نے حکومت کو رواں سال میں جن سفارشات پر عمل کرنے کامشورہ دیا ہے ان پر نظر ڈالیں ۔ (1 کسٹمز ڈیوٹی میں کٹوتی : یو پی اے حکومت نے ہر باب کی سطح پر یکساں کسٹمز ڈیوٹی اور محاصل میں کٹوتی کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجہ میں تمام اشیاء پر تجارتی حجم کے حساب سے اوسط کسٹمز ڈیوٹی کم ہوکر 6.34 فیصد رہ گئی تھی ۔ این ڈی اے کے دور میں یو پی اے حکومت کی اس پالیسی کو اُلٹ دیا گیا اور تجارتی حجم کے لحاظ سے اوسط کسٹمز ڈیوٹی بڑھ کر تقریباً 12 فیصد تک پہنچ گئی ۔ اکثر چیف منسٹروں کی طرح مسٹر نریندر مودی بھی گجرات میں فطری طورپر تحفظ پسند تھے اور ان کی یہی ذہنیت مرکزی حکومت میں بھی لے آئے جہاں انھیں تحفظ پسند لابیوں اور حامیوں کی بھرپور تائید و حمایت بلکہ حوصلہ افزائی حاصل رہی ۔ درحقیقت آتما نربھر بھارت خود کفالت اور تحفظ پسندی کا ایک نیا نام تھا جس نے ہندوستانی معیشت کو تقریباً تین دہائیوں تک عملی طورپر بند کر رکھا تھا ۔ پروفیسر اروند نے سفارش کی ہیکہ حکومت تمام تر اقدامات پر یکساں 7 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی پابند ہے ۔ کوالیٹی کنٹرول سے دستبرداری مکمل کریں: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوالیٹی کنٹرول آرڈر کی ایک طویل فہرست کس نے نافذ کی ؟ کوالیٹی کنٹرول آرڈر دراصل درآمدات پر Non Tariff رکاوٹیں ہیں اگر اسی طرح کی کوالیٹی معیارات کا اطلاق ہندوستانی مصنوعات پر بھی لاگو کئے جائیں تو بہت کم مصنوعات پر پوری اُتریں گی ۔
ڈاکٹر اروند نے سال 2025 ء میں 22کوالیٹی کنٹرول آرڈرس سے دستبرداری پر حکومت کی تعریف و ستائش کی لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایاکہ یہ 22 کوالیٹی کنٹرول آرڈس اصل میں کئی برسوں میں نافذ کئے گئے تھے حقیقت یہ ہے کہ یہی 22 کوالٹی کنٹرول آرڈرس ذیل میں دیئے گئے برسوں میں نافذ کئے گئے تھے ۔ سال 2021 ء میں 6 ، سال 2022 ء میں 9 ، سال 2023 ء میں 4 ، سال 2024 ء میں دو اور سال 2025 ء میں ایک کوالیٹی کنٹرول آرڈڑ نافذ کیا گیاتھا ۔ باقی کی کہانی انتہائی ابتر ہے۔ 22 کوالیٹی کنٹرول آرڈر سے دستبرداری کے بعد بھی یہ تخمینہ لگایا گیا ہیکہ اب بھی 700 سے زائد کوالیٹی کنٹرول آرڈرس نافذالعمل ہے ۔ تجارتی معاملتوں پر دستخطیں : ڈاکٹر اروند پنگاریا خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمیں درآمدات کو فراخدلانہ بنانے کے خلاف فطری مزاحمت کی گئی ۔ این ڈی اے حکومت کے سوا کوئی اور نہیں جو اس طرح کے اقدامات کرے گی ۔ اس حکومت نے درآمدی فراخدلی کی دو دہائیوں پر محیط پالیسی کو پوری طرح اُلٹ کر رکھدیا ۔ 2018 ء میں CPTPP پر دستخط کی دعوت کو ٹھکرادیا ۔ سال 2019ء میں RCEP سے دستبردار ہوگئی اور دو طرفہ تجارتی معاہدوں سے بیزاری کا اظہار کیا ۔ اب DGTR کو محدود کرنے سے متعلق مشورہ کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ ورلڈ مرکنڈائز ٹریڈ میں ہندوستان کے ایک چھوٹے سے حصہ (2.8%) کے باوجود ہندوستان نے مصنوعات پر 250 مخالف ڈمیسٹک ڈیوٹیز یا محاصل عائد کئے اس میں کسٹمز کاؤنٹر ویلنگ اور حفاظتی محاصل بھی شامل کرلیں۔ ویسے بھی ہندوستان کے ٹیرف رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں DGTR کو تحفظ پسند نظام نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور دیگر تمام سرکاری اداروں کی طرح اس نے بھی اس کردار میں دل کھول کر حصہ لیا ۔ DGTR کے دائرہ اختیار اور مینڈیٹ کو ازسرنو مرتب کیا جانا چاہئے ۔
روپئے کی قدر حد سے زیادہ نہ بڑھائیں : شرح تبادلہ ایک بہت ہی حساس مسئلہ ہے ۔ یہ زر مبادلہ کے بہاؤ طلب و رسد اور مالیاتی خسارہ سے متاثر ہوتا ہے یعنی Exchange Rate پر مذکورہ عناصر بہت ہی اثرانداز ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حد سے زیادہ مضبوط اور مستحکم روپیہ یا اس کی قدر برآمدات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے اس کے برعکس کمزور روپیہ سے ثانوی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لئے یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ روپئے کی قدر کا تعین بازار پر چھوڑ دیاجائے اور ریزرو بینک آف انڈیا صرف حد سے زیادہ اُتار چڑھاؤ کے موقع پر مداخلت کرے۔یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ جو چیزیں درآمدات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں معاشی پالیسی میں بار بار تبدیلیاں کرنا ، قوانین قواعد و ضوابط ، ہدایات ، فارمس اور تابع قوانین ہیں ، اس کا حل یہ ہے کہ ہر سال کے اواخر میں ان سب کا اچھی طرح جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ ہماری معیشت کو کیسے مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔