فاشسٹ بھارت
مودی حکومت آنے کے بعد جمہوریت خطرہ میں
پاکستان کے طرز پر بھارت میں سنسر شپ
عام شہریوں پر تحدیدات ، ہندوتوا اداروں کو آزادی
سویڈین سے تعلق رکھنے والے وی ، ڈیم ادارے کی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد :۔ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت دیش میں جمہوریت خطرہ میں پڑ گئی ہے ۔ یہ رائے ایک عالمی تحقیقی ادارے نے اپنی رپورٹ میں قائم کی ہے ۔ ادارے کا ماننا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑے جمہوری ملک انتخابی عمل سے ظلم کی طرف ( الیکٹرورل آٹوکرسی ) سطح تک پہونچ چکا ہے ۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والے اس ادارے وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ نامی ادارے نے یہ تحقیقی رپورٹ کو جاری کیا ۔ اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ میڈیا کی آواز کو دبانا اور حکومت کے خلاف تنقید کرنے والوں پر ملک کے غدار ہونے جیسے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے بھارت دیش اس سطح تک پہونچ چکا ہے ۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے فریڈم ہاوز ادارے کی جانب سے حالیہ دنوں جاری اپنی رپورٹ میں بھارت دیش کو جزوی جمہوری ملک کے طور پر قرار دینا تشویش کا باعث بنا ہوا ہے ۔۔
سات سال سے بدترین حالات
جمہوری فہرست میں بھارتی حکومت 2013 میں 0.57 کے ریکارڈ میں موجود تھی جب کہ 2020 کے آخر تک یہ اوسط 0.34 تک گھٹ گیا ۔ وی ڈیم نے یہ بات بتائی ۔ اس زمرے میں سال 2014 میں مودی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد ان سات سالہ دور میں 23 پوائنٹ تک کم ہوگیا ہے ۔ سنسر شپ سے متعلق پاکستان کے برابر بھارت بھی ظلم و زیادتی کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ وی ڈیم نے بھارت کے دیگر پڑوسی ملکوں نیپال اور بنگلہ دیش میں حالات کو اپنی رپورٹ میں بہتر بنایا ہے ۔ مخالفین اور تنقیدوں کو خاموش کرنے کے لیے مودی حکومت ملک سے غداری ، ہتک عزت ، مخالف دہشت گردی قوانین کا استعمال کررہی ہے ۔ بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد تاحال 7 ہزار افراد پر ملک سے غداری کا لیبل لگایا گیا ۔ وی ڈیم نے اپنی رپورٹ میں یہ حیران کن بات بھی بتائی کہ ان 7 ہزار افراد میں اکثریت ان افراد کی پائی جاتی ہے جو حکومت کے خلاف سرگرم تھے ۔ اس رپورٹ پر کانگریس کے قائد راہول گاندھی نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے اور ٹوئیٹر پر کہا کہ بھارت ایسا جمہوری ملک نہیں ہے ۔ انہوں نے اس ادارے کی رپورٹ اور کہانی کو ٹیاگ کردیا ۔۔