ایٹالہ راجندر شخصی مفادات کیلئے بی جے پی میں شامل،ریاستی وزیر کے ایشور کا خطاب
حیدرآباد۔9 ۔اگست (سیاست نیوز) وزیر بہبودیٔ ایس سی طبقات و اقلیت کے ایشور نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت اور بی جے پی دلتوں ، مسلمانوں ، عیسائیوں اور گریجن طبقات کی مخالف ہے۔ مودی حکومت نے ان طبقات کی بھلائی کے لئے کوئی بھی اقدامات نہیں کئے۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے تمام طبقات کی یکساں ترقی کے اقدامات کو برداشت نہ کرتے ہوئے بی جے پی عوام کو مذہب کے نام پر منقسم کرنا چاہتی ہے۔ ریاستی وزیر نے کریم نگر کے جمی کنٹہ میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کئی قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ کے ایشور نے کہا کہ حکومت ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر پر بھاری رقومات خرچ کر رہی ہے۔ کریم نگر میں 4000 مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور آباد ضمنی چناؤ میں کامیابی کے لئے بی جے پی فرقہ پرست ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ بی جے پی نے ہمیشہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کی مخالفت کی ہے جبکہ تلنگانہ میں تمام طبقات خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے مخالف ٹی آر ایس پروپگنڈہ پر عوام بھروسہ نہیں کریں گے ۔ ایٹالہ راجندر نے جو بھی ترقیاتی کام انجام دیئے وہ ٹی آر ایس کی دین ہے ۔ انہوں نے راجندر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر فینانس ہریش راؤ کو مقابلہ کا چیلنج مہنگا پڑے گا اور ٹی آر ایس کے ہاتھوں حضور آباد میں راجندر کی شکست یقینی ہے۔ کے ایشور نے ریاست بھر میں سرکاری دواخانوں میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے 4000 کروڑ کے خرچ کا ذکر کیا اور کہا کہ بہتر علاج کی سہولتوں کے لئے آکسیجن سے مربوط بیڈس کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور فلاحی اسکیمات کے معاملہ میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے ۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں کہیں بھی 24 گھنٹے برقی سربراہی کا نظم نہیں ہے۔ جبکہ تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ ایشور نے الزام عائد کیا کہ راجندر نے اپنے شخصی مفادات کے تحفظ کے لئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے تاکہ اپنی بدعنوانیوں کا تحفظ ہوسکے۔