سری نگر 7فروری (سیاست ڈاٹ کام ) سال گزشتہ کے پانچ اگست سے نظربند دو سابق وزرائے اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کے اطلاق پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے التجا مفتی نے کہا کہ موجودہ حکومت کسی بھی لحاظ سے جمہوری حکومت نہیں لگ رہی ہے بلکہ یہ ایک مطلق العنان حکومت ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی ہے کہ وادی کشمیر میں کوئی انٹرنیٹ کی حالت اور جیلوں میں بند بچوں کے بارے میں بات کرے ۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے ان باتوں کا اظہار یو این آئی اردو کے ساتھ سابق دو سابق وزرائے اعلیٰ پر عائد پی ایس اے کے رد عمل میں کیا۔انہوں نے کہا: ‘یہ حکومت مکمل طور پر مطلق العنان حکومت ہے اور کسی بھی لحاظ سے جمہوری حکومت نہیں لگ رہی ہے ۔ سبھوں کو معلوم ہے کہ یہ حکومت نہیں چاہتی ہے کہ کوئی بھی بات کرے کہ وادی میں انٹرنیٹ کس طرح چلتا ہے ، چھوٹے بچوں کو جیل میں بند کیا گیا ہے اور ہم کتنا سہہ رہے ہیں‘۔التجا نے کہا کہ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ نے حکومت کے دستاویز (بانڈ) کو مانا نہ اس پر دستخط کیا۔ان کا کہنا تھا: ‘میری والدہ اور عمر عبداللہ نے حکومت کے دستاویز (بانڈ) جس پر لکھا کہ وہ ایک سال تک کچھ نہیں بولیں گے ، کو نہیں مانا اور اس پر دستخط نہیں کیا، ہم اس بانڈ پر دستخط نہیں کریں گے ‘۔التجا نے سابق وزرائے اعلی کی مسلسل نظر بندی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انہیں سیاسی منظر نامے سے ہٹا کر اس پر اپنے لوگوں کو لگانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا اس میں حکومت کی کامیابی کشمیریوں پر منحصر ہے جو خود دیکھ رہے ہیں کہ وہ لوگ کیا کیا کررہے ہیں۔دریں اثنا التجا مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘محبوبہ مفتی نے کچھ دیر قبل پی ایس اے کا حکمنامہ وصول کیا، جموں کشمیر کے دو سابق وزرائے اعلی پر پی ایس اے عائد کرنا ایک ایسی مطلق العنان حکومت سے توقع ہی ہے جو 9 سالہ بچوں کے خلاف بھی بغاوت آمیز تاثرات پر مقدمہ دائر کرتی ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کب تک تماشائی بن کر بیٹھیں گے جب کہ وہ لوگ، ملک جس کے لئے مشہور ہے ، اس کی توہین کررہے ہیں‘۔
چپاتی کے اندر خط چھپاکر ماں سے مراسلت :محبوبہ مفتی کی دختر
سرینگر ۔ /7 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کی دختر التجا نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انہوں نے نظربند اپنی والدہ سے بات چیت کرنے کیلئے چپاتی میں خط کو چھپاکر بھیجا کرتی تھیں ۔ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا دیا جاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ بھی ان کے خط کا جواب ٹفن باکس میں رکھ کر روانہ کرتیں ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ میں بات چیت کیلئے سوشیل میڈیا کو استعمال نہیں کرسکتی ۔
