مودی حکومت دیہی عوام کو بندھوا مزدور بنانے کوشاں : کھرگے

   

نئی دہلی، 22 جنوری (یواین آئی) کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس کا تعلق امیروں سے ہے اور وہ غریبوں کی تکلیف کو نہیں سمجھتے ۔ اسی لیے غریبوں کو غلام بنانے کے ارادے سے دیہی مزدوروں کے حق کی مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو ختم کرنے کا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ کھرگے نے ’’منریگا بچاؤ مورچہ‘‘ کے ملک بھر سے آئے کارکنوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منریگا بچانے کی لڑائی بہت طویل ہے اور یہ لڑائی صرف نعرے لگا کر یا ایک جگہ بیٹھ کر نہیں جیتی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے منریگا کو ختم کرنے کا قانون پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا تھا اور کانگریس نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ اب جلد ہی بجٹ اجلاس شروع ہونے والا ہے اور کانگریس اس مسئلے کو دوبارہ اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غریبوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے اور کانگریس اس قانون کی بحالی تک لڑائی جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس حکومت نے مہاتما گاندھی کے نام سے منریگا شروع کیا تھا لیکن مودی حکومت اسے تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے ۔ منریگا کو ختم کر کے حکومت نے دیہی ہندوستان کے غریبوں اور کمزور طبقات پر حملہ کیا ہے ، جس کا ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ منریگا کو ختم کرنا صرف سماج کے کمزور طبقات پر حملہ نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کو عوامی یادداشت سے ہٹانے اور گرام سوراج کی سوچ پر حملہ کرنے کی سازش ہے ۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی جماعت نے مہاتما گاندھی کے نام پر رکھی اسکیم سے ان کا نام ہٹانے کی جرات کی ہے ۔ یہ ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت منریگا کو ختم اس لیے کر رہی ہے۔
تاکہ ملک کے دبے کچلے لوگوں کو “بندھوا مزدور” بنایا جا سکے ۔ منریگا سے لوگوں کو 100 دن کام کی قانونی ضمانت ملتی تھی، جسے ختم کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس کو منریگا اور غریبوں کے حقِ روزگار کو بچانے کی لڑائی لڑنی ہے اور اس کے لیے سب مزدوروں کو متحد ہونا پڑے گا۔