مودی حکومت غریبوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے

   

بی جے پی نے تلنگانہ کیلئے کچھ نہیں کیا، شاد نگر میں بی آر ایس کا اتمیہ سمیلن، ریاستی وزیر سبیتا اندرا ریڈی کا خطاب

شادنگر ۔ 8؍ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اگر آپ ریاست تلنگانہ کے لوگوں سے محبت اور خلوص رکھتے ہیں، اگر آپ ان کے پوچھے گئے تین کام کریں تو تلنگانہ کے عوام سے محبت کی تصدیق ہو جائے گی، کیا ہندوستان کے وزیر اعظم اس کے لیے تیار ہیں؟ تلنگانہ کی ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے اس بات کاچیلنج کیا۔ وزیر سبیتا اندرا ریڈی رنگاریڈی ضلع کے شادنگر ٹاؤن میں بھارت راشٹرا سمیتی کے شہری کارکنوں کے بڑے پیمانے پر منعقدہ اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے بی آر ایس پارٹی کارکنان کے اتمیہ سمیلن اجلاس سے مخاطب تھے۔ مذکورہ اجلاس شادنگر ایم ایل اے وائی انجیا یادو۔ کی زیرقیادت اور ٹاؤن صدر ایم ایس نٹراجن کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر پارٹی آبزرور ایم ایل سی رمنا موجود تھے۔ اس موقع پر بی آر ایس کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے ایوان میں تین کاموں کے بارے میں پوچھا۔ جب ریاست تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے ریاست کے لیے ITIR پروجیکٹ کو منسوخ کردیا اس کو فوری بحال کیا جائے۔ اسی طرح فارمیسی کو بھی اجازت دی جائے جس سے تلنگانہ میں لاکھوں ملازمتوں کی گنجائش پیدا ہوگی۔ پالامورو رنگا ریڈی پروجیکٹ کو قومی درجہ دینے کا چیلنج اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان تینوں مسائل کا جواب دے کر شروع کیا جائے تو بی جے پی کو تلنگانہ کی عوام سے مخلصانہ محبت ثابت ہو گی۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک کیا گیا جس سے طلباء کا مستقبل تباہ ہو گیا۔ اپیل کی کہ وہ طلباء کے مستقبل پر سیاست نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہندو مسلم تنازعات پیدا کرکے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید تنقید کی کہ بی جے پی کا ایجنڈہ ذات پات کے تنازعات کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو اور بڑھانا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکزی حکومت ریاست تلنگانہ کو ابھی تک ایک بھی تعلیمی ادارہ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی ریاستوں کو میڈیکل کالج دینے والی مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج نہیں دیا۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کیا ۔ اگرچہ کے ٹی آر بیرون ملک تھے لیکن انہوں نے اپنے والد کی خواہش کو حاصل کرنے کے لیے تلنگانہ تحریک میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر کی بیٹی کویتا کو بھی پولیس نے دن رات ہراساں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کے سی آر غریبوں کی جیبیں بھرنے کا کام کررہے ہیں تو مودی حکومت غریبوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے علاوہ جی ایس ٹی کے ذریعہ تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر کے کسانوں کو لوٹا جا رہا ہے۔اس موقع پر زیڈ پی ٹی سی وینکٹ رام ریڈی، مارکیٹ کمیٹی چیرمین کویتا نارائن یادو، مونسپل چیرمین کے نریندر، مونسپل وائس چیرمین ایم ایس نٹراجن، سکریٹری چپیری روی یادو، منڈل صدر لکشمن نائک، ایس سی ایس ٹی کمیشن سابق ممبران رام بل نائک، مارکیٹ کمیٹی سابق چیئرمین نارائن ریڈی، سنگل ونڈو چیرمین بکنا یادو، وائس چیرمین پانڈورنگا ریڈی، سابق زیڈ پی ٹی سی سوریہ پرکاش، سائی کرشنا، سابق مونسپل چیرمین وشوام، سابق? ایم ایم پی سرینواس ریڈی، شیوا رامولو گوڈ، ونناڈا پرکاش گوڈ، اکولا ملیش، پاتھوری وینکٹ راؤ، اکولا سری سیلم، زمرد خان، لنگرام پینٹایا، چیگوری وینو گوپال، یادوچاری، لنکالا راگھویندر ریڈی، نندرام اشوک یادو، نرسنگھ، ڈاکٹر چندر شیکھر گوڈ، پلی شیکھر، سری نواس، عبدالرب جامی، عادل، کرشنا یادو، نادی کوڈا یادگیری یادو، مونسپل کونسلر اگنش رام وینکٹ رام، وینکٹ رام ، مہیشوری، چھتلے پاوانی نرسمہلو، سرور پاشا، جی ٹی سرینواس، کانوگو انتایا، ریٹیکل نندیشور، پلی شاردا شیکھر، جوپلی کوسلیا شنکر، گڈم مادھوری نندکشور، نادیکوڈا سریتا یادگیری یادو، پریمالتھا سریتا یادگیری یادو، پریمالتھا سریتا یودگی، پریملاتھا سریتا یودی، پْلّی یْودی، پْلّی یْودا۔لتاشری سری سیلم گوڈ، ایشور راجو، عارفہ بیگم میونسپل کوآپشن ممبران واگو کشور، پدما، غوث جانی، خواتین لیڈر راجیہ لکشمی، ونندا لاونیا پرکاش گوڑ، سینئر لیڈر کارکنان،سابق کونسلر تمام وارڈ کمیٹیوں کے صدر اور سوسائٹیوں کے رہنما اور کارکنان کی بڑی تعداد کے علاوہ خواتین نے شرکت کی کی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔