گمبھی راؤپیٹ؍ سرسلہ ۔ 17 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ و رکن پارلیمنٹ کریمنگربنڈی سنجے کمار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے گزشتہ 12 برسوں میں ملک بھر کی گرام پنچایتوں کی ترقی کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے، جبکہ تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں منریگا (قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم) کے تحت تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔انہوں نے یہ بات راجنہ سرسلہ ضلع کے گمبھی راؤپیٹ منڈل کے پونّالہ پلی گاؤں میں نئے گرام پنچایت دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ عمارت راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (RGSA) کے تحت مرکز کی جانب سے 20 لاکھ روپے اور ریاستی حکومت کے اسپیشل ڈیولپمنٹ فنڈ سے 5 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے۔بندی سنجے نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت گزشتہ ڈھائی برسوں میں گرام پنچایتوں کی ترقی کے لیے کوئی خصوصی فنڈ فراہم نہیں کر سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کی جانب سے دیے گئے فنڈز ترقیاتی کاموں کے بجائے ملازمین کی تنخواہوں اور صفائی کے اخراجات پر خرچ کیے جارہے ہیں، جس کے باعث پنچایتوں کی مالی حالت ابتر ہو چکی ہے۔