حکومت حقائق کے انکشاف سے خوفزدہ، پونم پربھاکر کا بیان
حیدرآباد۔23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت قانون حق معلومات کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ اس قانون کے ذریعہ عوام کو سرکاری محکمہ جات سے معلومات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ عوام کو اس حق سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ اسی سازش کے تحت پارلیمنٹ میں قانون میں ترمیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ترمیمات کا مقصد قانون کو کمزور کرتے ہوئے عوام کی دسترس سے باہر کرنا ہے۔ لوک سبھا میں ترمیمات کو منظوری دی گئی جبکہ راجیہ سبھا میں ابھی مباحث باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015 ء میں یو پی اے حکومت نے وسیع تر مباحث کے بعد شفاف نظم و نسق کیلئے یہ قانون تیار کیا تھا۔ اس قانون کے ذریعہ عوام کو اختیار دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں ۔ مختلف اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کوئی بھی شخص اس قانون کے تحت تفصیلات حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نظم و نسق بہتر کام کرے تو پھر اسے قانون سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عوام کی جانب سے طلب کی جانے والی معلومات کو بلا خوف و خطر دیا جاسکتا ہے لیکن نریندر مودی حکومت اس تاریخی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے عوام کو ان کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ اس قانون سے ابھی تک 60 لاکھ افراد نے استفادہ کیا۔ انہوں نے بہتر نظم و نسق اور شفاف حکمرانی کیلئے اس قانون کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ حق معلومات کے ذریعہ حکمرانوں نے جوابدہی کا احساس پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ اس قانون کے نتیجہ میں نریندر مودی اور سمرتی ایرانی کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں عوام کو واقفیت حاصل ہوئی۔ اس طرح کی مزید معلومات منظر عام پر آنے کے خوف سے مرکز نے ترمیمات کو منظوری دی ہے۔ پونم پربھاکر نے دانشوروں تعلیمی یافتہ طبقہ اور جمہوری طاقتوں سے اپیل کی کہ اس قانون میں ترامیم کے خلاف آواز اٹھائیں۔