مودی حکومت کا تلنگانہ سے سوتیلا سلوک، کے ٹی آر کی برہمی

,

   

تلنگانہ کیا ہندوستان کا حصہ نہیں؟ مرکز سے استفسار، میڑچل میں ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد

حیدرآباد۔ 2 فروری (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی رما راؤ نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے سوتیلا سلوک کرنے کا مودی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا ریاست تلنگانہ ہندوستان کا حصہ نہیں ہے؟ اسمبلی حلقہ میڑچل کے جواہر نگر۔ وزاگوڑہ، بوڈ اپل کارپوریشنس کے حدود میں 303 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد وہ عوام سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ریاستی وزیر لیبر ملاریڈی کے علاوہ ٹی آر ایس کے دوسرے قائدین موجود تھے۔ کے ٹی آر نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے ہوئی ناانصافی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی ریاست میں انقلابی ترقی ہو رہی ہے۔ شہری آبادیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے پیش نظر مختلف ترقیاتی و تعمیری کاموں کے لئے تعاون کرنے کی مرکز سے کئی نمائندگیاں کی گئی ہیں جس کو بجٹ میں یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔ تلنگانہ کو فنڈز کی اجرائی کے معاملے میں مرکزی حکومت جانبداری سے کام لے رہی ہے۔ فلائی اسکیمات کی عمل آوری کے معاملے میں تلنگانہ ملک کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں تلنگانہ کو کوئی فنڈز جاری نہیں ہو رہے ہیں۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ عنقریب جی اوز 58 اور 59 جاری کرتے ہوئے ہر غریب کو پٹہ اراضی دی جائے گی۔ جواہر نگر ڈمپنگ یارڈ کو غلاظت اور بدبو سے پاک بنایا گیا ہے۔ کچرے سے برقی پیدا کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بہت جلد 24 میگاواٹ برقی پلانٹ کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے بتا یا کہ147 کروڑ روپے کے مصارف سے گرین کیاپنگ کاموں کا آغاز کیا گیا ہے۔ ڈمپنگ یارڈ کے مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جائے گا۔ اسمبلی حلقہ میڑچل کی ترقی کیلئے چیف منسٹر کے سی آر خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 1200 کروڑ روپے کے اخراجات سے اندرون رنگ روڈ کے تمام میونسپلٹیز میں پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ اسمبلی حلقہ میڑچل کے لئے مزید 50 ہزار نئے نل کے کنکشن منظور کرنے کا انہوں نے اعلان کیا اور ساتھ ہی پینے کے پانی کے لئے 240 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔ ویج اور نان ویج مارکٹ کے لئے 15 کروڑ روپے مختص کئے گئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکز کے تعاون کے بغیر تلنگانہ حکومت ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کو جاری رکھے گی۔ حیدرآباد کے اطراف چار سوپر اسپشالیٹی ہاسپٹلس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ عوام کو موثر طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے بستی دواخانوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر سڑکیں، فلائی اوورس، انڈر بریجس تعمیر کرتے ہوئے حیدرآباد کو سگنل فری سٹی میں تبدیل کرنے کے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ گاؤں گاؤں میں مسلمانوں کے لئے قبرستان اور ہندوؤں کیلئے شمشان گھاٹس قائم کئے جارہے ہیں۔ ن