۔4 ریاستوں میں تنظیمی تبدیلیاں ، سونیا گاندھی کی قیادت میں پارٹی کا اہم اجلاس
نئی دہلی : کانگریس نے مودی حکومت کیخلاف خودکو متحد اور مضبوط کرلیا ہے ۔ زرعی قوانین کے معاملے میں کسانوں کے ساتھ جاریہ تعطل کیلئے مودی حکومت کے گھمنڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کسانوں کو نظرانداز کررہی ہے ۔ زراعت کا مسئلہ اور کسانوں کے احتجاج کا حل عدالتوں میں نہیں پایا جاتا ۔ ہفتہ کو ہوئی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں تمام کانگریس قائدین کی تجاویز پر غور کیا گیا ۔ اجلاس میں طئے پایا گیا ہے کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے علاوہ مودی حکومت سے مقابلہ کرنے کیلئے تمام کانگریس قائدین کو متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کسانوں کے طویل احتجاج پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی ہٹ دھرمی اور تکبر کی وجہ سے یہ احتجاج شدت اختیار کررہا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی کسان یونین نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ۔ اس تعطل کا حل 3 کالے زرعی قوانین کو واپس لینے میں ہی نکلے گا ۔ یہ مسئلہ عدالتوں میں حل نہیں ہوسکتا ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ 25 لاکھ کروڑ زرعی تجارت کو وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے 3 تا 4 دولت مندوں دوستوں کیلئے مختص کردیا ہے ۔کانگریس نے ناراض قائدین کے ساتھ کل کے اجلاس کے بعد اپنی تنظیمی قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ ، گجرات ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا 4 ریاستوں میں قیادت کی تبدیلی پر غور کیا گیا ۔ اب تک تلنگانہ کانگریس صدر اتم کمار ریڈی نے ہی حیدرآباد بلدی انتخابات میں پارٹی کے کمزور مظاہرہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے ۔ گجرات کانگریس کے صدر امیت چاوڑا نے بھی گجرات ضمنی انتخابات میں پارٹی کے خراب مظاہرے کے بعد استعفیٰ دیا تھا ۔ کانگریس چیف منسٹر مدھیہ پردیش کمل ناتھ جو ریاستی پارٹی کے صدر بھی ہیں سی ایل پی لیڈر کا عہدہ بھی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جی 23 کے ساتھ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس طلب کرنے کیلئے اہم رول ادا کررہی ہے ۔ پارٹی کے اندر باغیانہ سرگرمیوں کو ختم کرنے اور ناراض قائدین کو منانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہفتہ کے دن کانگریس نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی میں تبدیلی لائی ۔