مرکز ی پالیسیوں کے خلاف کانگریس کے احتجاج کا اعلان
نئی دہلی ۔ 30 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے فیصلہ کیا ہیکہ 5 نومبر سے 15 نومبر تک نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بطور احتجاج پروگرام چلایا جائے گا۔ معاشی بحران، بیروزگاری، کسانوں کی پریشانیاں اور مجوزہ آر سی ای سی معاہدہ کے منفی اثرات خصوصی مرکز توجہ ہوں گے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری تنظیمی کے سی وینوگوپال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی حکومت کی ’’ناقص حکمرانی‘‘ کے خلاف احتجاجی مظاہرے تمام ریاستی دارالحکومتوں اور ضلعی مستقروں پر منعقد کئے جائیں گے۔ احتجاجی مظاہروں کا اختتام قومی دارالحکومت میں نومبر کے آخری ہفتہ میں ایک پرہجوم پروگرام کے ذریعہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر تمام پردیش صدورف کانگریس، کانگریس مقننہ پارٹی کے قائدین اور کل ہند کانگریس کے سینئر کارکنوں کو قیادت کی جائے گی جبکہ مرکزی قائدین دہلی میں احتجاج میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس علاقائی جامع معاشی شراکت داری، تازہ ترین معاشی بحران، بڑھتی ہوئی بیروزگاری، قیمتوں میں بے تحاشہ تیز رفتار اضافہ، بینکنگ نظام کا انہدام، عوامی اور سرکاری شعبوں میں ملازمتوں کا فقدان اور زرعی شعبہ میں پریشان حالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کانگریس کارکن اور اس کے رضاکار عوام کی آواز اٹھائیں گے اور بے حس مرکزی حکومت کو جوابدہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔ اس کو بے شمار مشکلات اور مصائب کا ذمہ دار قرار دیں گے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے کل ہند کانگریس جنرل سکریٹریوں ریساتوں کے انچارجوں، صف اول کی ملحقہ تنظیموں اور محکمہ جاتی تنظیموں کا ایک اجلاس 2 نومبر 2019ء کو منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس احتجاجی پروگرام کیلئے تیاریوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ کانگریس نے 31 سینئر پارٹی قائدین کو مختلف ریاستوں ؍ مرکز زیرانتظام علاقوں سے بطور مبصر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس ملک گیر احتجاج کی نگرانی کرسکیں۔
