نئی دہلی : 31 مارچ (یو این آئی) لوک سبھا میں اسمارٹ سٹی مشن کو لے کر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے حکومت سے اس منصوبے کے حقیقی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ ’دھوکہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ کوئی بھی شہر اس وقت تک ’اسمارٹ‘ نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے شہریوں کو صاف پانی، بہتر فضا اور بنیادی تحفظ فراہم نہ کرے۔راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم اس منصوبے کی مسلسل تعریف کرتے رہے لیکن جب یہ منصوبہ اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے تو اس کے نتائج مایوس کن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھاتے ہوئے جاننا چاہا کہ اسمارٹ سٹی کی تعریف کیا ہے، کامیابی کا معیار کیا رکھا گیا، کتنے شہر واقعی بدلے اور عام لوگوں کی زندگی میں کیا ٹھوس بہتری آئی۔حکومت کی جانب سے دیے گئے جواب کے مطابق اسمارٹ سٹی مشن کے تحت مرکز نے تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے مختص کیے، جن میں سے 47 ہزار کروڑ سے زیادہ کی مالی مدد جاری کی جا چکی ہے اور تقریباً 46 ہزار کروڑ روپے استعمال بھی ہو چکے ہیں۔ جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت 100 شہروں میں 8 ہزار سے زیادہ پروجیکٹ شروع کیے گئے، جن میں سے 97 فیصد مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ منصوبے ابھی عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں۔تاہم، راہول گاندھی نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی 97 فیصد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں تو پھر شہروں میں بنیادی مسائل کیوں برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی شہروں میں آلودہ پانی، کھلے نالے، گرتے پل اور دھنسکتی سڑکیں عام ہیں، جو اس منصوبے کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔