مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اڈانی کے کاروبار کی پالیسی بن گئی

,

   

دولت8 سال میں 8 بلین سے 140 بلین امریکی ڈالر کیسے ہوگئی، بھارت جوڑو یاترا کے دوران عوام کا سوال :راہول

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست تنقیدکرتے ہوئے، کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے منگل کو الزام لگایا کہ مرکزی حکومت صرف ایک کارپوریٹ، اڈانی گروپ کی حمایت کر رہی ہے، جسے تمام ٹھیکے ملتے ہیں، بشمول اوورسیز والے۔پہلے وہ اڈانی کے ہوائی جہاز میں سفرکرتے تھے اور اب اڈانی مودی جی کے ساتھ اپنے ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہیں۔ پہلے معاملہ گجرات تک محدود تھا پھر ملک اور اب وہ بین الاقوامی ہوگیا ہے۔ راہول گاندھی نے صدر کے خطاب کے شکریہ کی تحریک پریہ بات کہی۔ انہوں نے الزام لگایا وزیراعظم آسٹریلیا گئے اور جادو سے ایس بی آئی نے اڈانی کو1 بلین ڈالر کا قرض دیا۔ وزیر اعظم بنگلہ دیش جاتے ہیں اور پھر ملک کے پاور ڈیولپمنٹ بورڈ نے اڈانی کے ساتھ 25 سال کا معاہدہ کیا۔ راہول گاندھی نے سوال کیا کہ گزشتہ 20 سال میں اڈانی نے بی جے پی کو کتنا پیسہ دیا ؟ انہوں نے الزام لگایا کہ 2022 میں سری لنکا کے بجلی بورڈکے چیئرمین نے سری لنکا کی پارلیمانی کمیٹی کو مطلع کیا کہ انہیں صدر راجہ پکسے نے بتایا تھا کہ اڈانی کو ونڈ پاور پراجکٹ دینے کے لئے وزیر اعظم مودی کی طرف سے ان پر دباؤ تھا۔ یہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی نہیں ہے۔ یہ اڈانی کے کاروبار کی پالیسی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کیسے ایک شخص، اڈانی کی دولت 2014 اور 2022 کے درمیان 8 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 140 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کا وزیر اعظم سے کیا تعلق ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کے دوران، ہم نے لوگوں کی آوازیں سنی جبکہ ہم نے اپنی آواز بھی رکھی۔ ہم نے یاتراکے دوران بچوں، خواتین اور بوڑھوں سے بات کی۔ ہم نے نوجوانوں سے ان کی ملازمتوں کے بارے میں پوچھا… بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ بے روزگار ہیں یا اوبر چلاتے ہیں۔ کسانوں نے پی ایم بیما یوجنا کے تحت پیسے نہ ملنے اور ان کی زمین چھیننے کی بات کی، جب کہ قبائلیوں نے قبائلی بل کی بات کی۔ جب ہم نے پہلی بار چلنا شروع کیا (بھارت جوڑو یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے) ، ہم اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتے تھے اور لوگوں کو ان کے مسائل کے بارے میں بتانا چاہتے تھے۔ تاہم، جیسے جیسے ہم آگے بڑھے، 500تا 600 کیلومیٹر کے بعد ایک بڑی تبدیلی آئی۔ راہول گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ لوگوں کے مسائل جاننے کیلئے یاترا میں ہم نے پوری کوشش کی۔