نارائن گوڑہ چوراہے پر سی پی آئی کی ریالی ، ای ٹی نرسمہا اور دیگر کی حکومت پر تنقیدیں
حیدرآباد ۔12 فبروری ( سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا تلنگانہ کونسل کی جانب سے مودی حکومت کی ’’ مخالف ورکرس پالیسیوں ‘‘ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کئے گئے ۔ گریٹر حیدرآباد میںبھی سی پی آئی حیدآباد کونسل قائدین نے سی پی آئی دفتر تا نارائن گوڑہ چوراہا پر ایک احتجاجی ریالی نکالی اور مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ ٹریڈ یونین لیڈران کے مطابق معلنہ ’’بھارت بند‘‘ میں ملک بھر سے تیس کروڑ سے زائد ورکرس جس میں کسان بھی شامل تھے نے مرکزی حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں حصہ لیاہے۔ سی پی آئی تلنگانہ کے اسٹنٹ جنرل سکریٹری ای ٹی نرسمہا نے احتجاجی مظاہرہ کے دوران ٹریڈ یونین کے اسی دعوے کو دہرایا او رکہاکہ نریندر مودی کے بارہ سالہ دور اقتدار میںکبھی کسان ‘ کبھی مزدور تو کبھی سرکاری ملازمین کو ہراساں وپریشان کرنے کاکام کیا جاتا رہا ہے۔ آٹھ گھنٹوں کے بجائے بارہ گھنٹے خدمات کے اوقات میںاضافہ کے ساتھ ساتھ چار نئے لیبر قوانین مودی حکومت کی من مانی کو ظاہر کرتے ہیں۔ای ٹی نرسمہا نے کہاکہ مذہب کے نام پر ملک کو بانٹنا اور اڈانی اور امبانی کے لئے کام کرنا وزیراعظم نریندر مودی کی زندگی کا مقصد دکھائی دے رہا ہے۔انہوں نے اسپیکر لوک سبھا کو حکومت کے ترجمان کے طورپر کام کرنے کا مورد الزام ٹہرایا او رکہاکہ نریندر مودی کی کٹھ پتلی کے طو رپر اسپیکر لوک سبھا کام کررہے ہیں ۔ سی پی آئی قائد نے امریکہ سے تجارتی معاہدے کو ہندوستانی کسانوں کے لئے ایک بڑا نقصان قراردیا اور کہاکہ اس معاہدے سے ملک کی زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا اور ملک کے کسان تباہ ہوجائیں گے۔امریکہ کے ساتھ پیش آئے معاہدے کا خلاصہ کرنے کی اپوزیشن کی مانگ کا حوالہ دیتے ہوئے ای ٹی نرسمہا نے کہاکہ ایسی کیا چیزیں اس معاہدے میںشامل ہیں جس کو پوشیدہ رکھنے کی حکومت کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے پبلک سیکٹر کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کرنے کا بھی مودی حکومت پر الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہاکہ چار نئے لیبر قوانین سے دستبرداری اختیار کرنے تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں اور ٹریڈ یونینوں کی جانب سے اس ضمن میںلئے گئے تمام فیصلوں کی دائیںبازو جماعتیں تائید وحمایت کرتے ہیں۔مستقبل میںبھی سی پی آئی تلنگانہ کونسل کی جانب سے اس طرح کے احتجاج کے سلسلے کو جاری رکھنے کا ای ٹی نرسمہا نے اعلان کیا۔ اس موقع پر سی پی آئی اور دیگر بائیں بازو جماعتوں کے قائدین بھی احتجاج میںشامل تھے۔