چین عالمی حقوق انسانی کیلئے ’سنگین‘ خطرہ : ایگزیکیوڈائریکٹر کینیتھ راتھ
نیویارک۔15جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام)بین الاقوامی ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر کینتھ روتھ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں کی وجہ سے تنظیم کافی فکر مند ہے ۔روتھ نے منگل کو کہاکہ ہم کشمیر اور آسام میں ان کے کاموں اور اب حال ہی میں اس امتیازی شہریت قانون کی طرف سے مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسی کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ پارلیمنٹ نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی مذاہب کے لوگوں کو شہریت پیش کرنے والا بل شہری ترمیمی قانون (سی اے اے ) منظور کیا تھا۔ اس کے مطابق مسلمانوں کو اس کے تحت شہریت نہیں دی جائے گی۔اس سے قبل گزشتہ سال 5اگست کو مرکزی حکومت نے جموں کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ چین جس طر ح کے اقدامات کررہا ہے ان سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کا نظام کمزور پڑجائیگا۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ’ورلڈ رپورٹ2020‘ میں چین میں انسانی حقوق کے حوالے سے سخت تبصرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بیجنگ اپنے اقتصادی اورسفارتی وسائل کی آڑلے کر انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے بین الاقوامی نظام پر ’انتہائی شدید حملے‘ کررہا ہے۔ غیر حکومتی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ چین کی حکومت نے عوام کی طرف سے کی جانے والی نکتہ چینی پر نگاہ رکھنے اور انہیں کچلنے کے لیے ہائی ٹیک نگرانی سسٹم اور جدید ترین انٹرنیٹ سنسر شپ نظام ڈیولپ کرلیا ہے اور بیرون ملک ناقدین کو خاموش کرنے کیلئے اپنی اقتصادی قوت کا استعمال کررہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ اپنی سالانہ رپورٹ ہانگ کانگ میں جاری کرنا چاہتی تھی
لیکن چین نے تنظیم کے ایگزیکیوڈائریکٹر کینیتھ راتھ کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد انہیں کل (14 جنوری کو )یہ رپورٹ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاری کرنا پڑی۔چین کی وزارت خارجہ کا تاہم کہنا ہے کہ راتھ کوہانگ کانگ جانے کی اجازت اس لیے نہیں دی گئی کیوں کہ ہیومن رائٹس واچ اس نیم خودمختار چینی علاقے میں جاری جمہوریت نواز مظاہروں کی حمایت کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ورلڈرپورٹ 2020 میں ایک سو سے زائد ملکوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کا ذکر کیا ہے۔ یہ اس کی تیسویں سالانہ رپورٹ ہے۔خیال رہے کہ چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں ایغور اقلیتی مسلمانوں کیخلاف منظم زیادتی کے متعلق دستاویزی ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد سے چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات میں شدت پیدا ہوئی ہے۔ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ صدر ژی جن پنگ کی قیادت والی چینی حکومت ملک کے اندر انسانی حقوق کی بحالی کیلئے کی جانے والی کوششوں کو’’اپنے وجود کیلئے خطرہ‘‘سمجھتی ہے اور ان کوششوں کیلئے بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا مزید کہنا ہے کہ چینی حکام بیرون ملک چین کے خلاف ہونے والی نکتہ چینی کو سنسر کرنے، بین الاقوامی فورمز پر انسانی حقوق کے مسائل کی طرف سے توجہ ہٹانے اور حقوق انسانی کے عالمی میکانزم کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کینیتھ راتھ کا کہنا تھا کہ اگرچین کی ان کوششوں کو چیلنج نہیں کیا گیا تو مستقبل بہت مایوس کن ہوجائے گا اور چین کے سینسر سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا اور انسانی حقوق کا بین الاقوامی نظام اتنا کمزور ہوجائے گا کہ حکومتوں کی زیادتیوں پر روک لگانا ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ یوں تو ایک عرصے سے اپنے ملک میں ناقدین کو کچل رہا ہے لیکن چینی حکومت اب سنسر شپ کو باقی دنیا پر بھی مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لہٰذا بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام پربیجنگ کے اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر موجود ایک چینی سفارت کار نے راتھ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ تعصب پر مبنی اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس رپورٹ کو مسترد کرتا ہے کیوں کہ اس رپورٹ میں چینی حکومت کی طرف سے ملک میں سات سو ملین افراد کو غربت سے نکالنے کا کہیں ذکر تک نہیں ہے۔