عوام کی صدائے احتجاج کو نظر انداز کرنا غیر جمہوری: صدر تعمیر ملت جناب سید جلیل احمد کا بیان
حیدرآباد۔ صدر کل ہند مجلس تعمیرملت جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اپنے دور میں اب تک جتنے بھی قوانین بنائے ہیں وہ بحیثیت مجموعی عوام کے عظیم تر مفادات کے خلاف ہیں‘ لیکن شاطرانہ جملہ بازی اور ہندو مسلم نفاق اور نفرت پیدا کرنے کی سازشوں کے ذریعہ وہ ملک کے سادہ لوح عوام کو چکمہ دینے میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں اور اس طرح عوام کی توجہہ حساس اور سلگتے ہوئے مسائل سے ہٹانے اور ان کو صرف سطحی اور فرقہ وارانہ سوچ میں مصروف کردینے میں ماہر ہیں۔ جناب سید جلیل احمد نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے سب سے پہلے مسلم فرقہ کو ٹارگٹ کیا اور اس طبقہ کے خلاف غیر منصفانہ اور ظالمانہ قوانین بنائے ‘ اس حکومت نے یہ غلط جذبہ پیدا کیا کہ مسلمان جب بھی احتجاج کریں توان کو دیش کا غدار کہا جائے اور اس طرح اس نے مسلمانو ں کی شبیہ بری طرح بگاڑ دی ۔ان تمام قوانین کے خلاف مسلمانوں نے دبی زبان میں احتجاج کیا ‘ البتہ سی اے اے کے خلاف کسی قدر بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا گیا تو اس کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دے کر توڑ دیا گیا۔ جب ملک میں کورونا کی وبا پھیلنے کی بات چلی تو اس کے لئے بھی مسلمانوں کو ذمہ دار قراردے کر ان کے خلاف سخت قسم کا ماحول بنایا گیا۔ حکومت نے معیشت کو تباہ کرنے کے لئے جو اقدامات کئے اس کے نتایج جلد یا بدیر ضرور برآمد ہوں گے‘ ان اقدامات کے خلاف عوام کی اکثریت خاموش ہے ‘ اور اگر کسی طبقہ نے صدائے احتجاج بلند بھی کی تو اس کو دیش دروہی‘ نکسلائیٹ اور تکڑے تکڑے گیانگ قرار دے کر ساری ہندو برادری کو اس کے خلاف کھڑا کردیا گیا‘ اس طرح عوام کی صدائے احتجاج کو نظر انداز کرنا غلط اور غیر جمہوری ہے ۔ حکومت کی ایسی ہی سیاہ قانون سازیوں میں زراعت سے متعلق بنائے گئے نئے قوانین بھی شامل ہیں جن کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کسان برادری کئی ماہ سے احتجاج کررہی ہے اور سخت سردی کا سامنا کرتے ہوئے مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہے‘ لیکن یہ بات
سخت افسوس کی ہے کہ حکومت اور سنگھ پریوار کے قائیدین اس احتجاج کو بری طرح نظر انداز کررہے ہیں۔ جناب سید جلیل احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نے اب تک جتنے قوانین بنائے ہیں اور جن کے خلاف عوام کے کسی نہ کسی طبقہ نے آواز بلند کی ہے تو ان تمام قوانین کو فی الفور منسوخ کردیا جائے اور ملک میں اتحاد و ہم آہنگی کی فضا بحال کی جائے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے او ر ملک کی سا لمیت کو برقرار رکھا جاسکے۔