مودی حکومت کے 10 برسوں میں خواتین پر جرائم میں اضافہ

   

وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا چاہیے‘کولکاتہ واقعہ کے متاثرہ خاندان کو انصاف کا مطالبہ : کانگریس قائد پون کھیڑا

نئی دہلی :پون کھیڑا نے ملک میں عصمت ریزی کے بڑھتے واقعات پرمرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو پہلے استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ گزشتہ 10 برسوں میں پورے مملک میں خواتین کے خلاف مظالم، استحصال اور عصمت ریزی کے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے اس کی ذمہ داری براہ راست نریندر مودی کی ہونی چاہیے۔ کولکاتا میں خاتون ڈاکٹر کی عصمت ریزی اور قتل کیس کے تعلق سے پون کھیڑا نے کہا کہ متاثرہ کا خاندان اس حادثے کے بعد سے پریشان اور غمزدہ ہے۔ ہم سب کی ایک ذمہ داری ہے کہ ان کے والدین کو اس وقت زیادہ پریشان نہ کریں۔ ان کو انصاف کی امید ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔ وہ اپنی بیٹی سے محروم ہو گئے ہیں، انصاف سے ان کی امید ٹوٹنی نہیں چاہیے۔پون کھیڑا نے کچھ دیگر معاملوں میں بھی اپنی رائے کھل کر ظاہر کی۔ انھوں نے جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ایم ایم کے سینئر لیڈر چمپئی سورین سے متعلق کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ نظریات ہمیشہ خواہشات سے اوپر ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ خواہشات کو نظریات پر ترجیح دیتے ہیں۔ سب کا سوچنے کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔کرناٹک کے گورنر کے ذریعہ لیے گئے ایک متنازعہ فیصلہ پر کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہم لگاتار دیکھ رہے ہیں کہ جہاں غیر بی جے پی حکومت ہے وہاں بی جے پی کس طرح سے گورنر اور راج بھون کا استعمال کر رہی ہے۔ آپ نے بنگال میں دیکھا کہ وہاں کیا حالت ہوئی تھی۔ گورنرس کو لے کر لگاتار ایسی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو غیر آئینی ہیں۔کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہول گاندھی کے ذریعہ نوکرشاہی کی تقرریوں پر دیے گئے بیان کیلئے بی جے پی لگاتار حملے کر رہی ہے۔ اس درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے راہول گاندھی کے دفاع میں ایک بیان دیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم مودی سے ہی اس معاملے میں سوال کر دیا ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’انتظامی اصلاحات کمیشن نے اس کی سفارش کی تھی۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ 2016، 2017 اور 2018 میں جب انھوں نے ان سفارشات کو نافذ کیا تو کیا وہ کامیاب ہوئیں؟ کیا پ وزیر اعظم مودی لیٹرل انٹری کے پہلے راؤنڈ کو کامیاب مانتے ہیں؟ ہمیں اس کا جواب چاہیے۔ انھیں یہ بتانا چاہیے کہ پہلے راؤنڈ کے دوران جتنے افسران انھوں نے اس میں لگائے تھے ان میں کتنے دلت اور قبائلی تھے؟