’’مودی خاندان‘‘ کے نعرے کو لیکر ترنمول کانگریس نے پوسٹرجاری کئے

   

کولکاتا: لوک سبھا انتخابات سے عین قبل وزیر اعظم نری ندر مودی نے ملک کے تمام باشندوں کو اپنا خاندان بتاتے ہوئے مہم چلائی تھی۔بی جے پی لیڈروں نے سوشل میڈیا پر اہنے پروفائل پر اس نعرے کو لکھ کر مہم بھی چلائی تھی۔تاہم ترنمول کانگریس نے اسی نعرے کی آڑ میں بی جے پی کی تنقید کرتے ہوئے سوالات کئے ہیں کہ مودی کے خاندان میں کون کون شامل ہیں۔منگل کو آل انڈیا ترنمول کے ایکس ہینڈل سے پوسٹروں کی ایک سیریز پوسٹ کی گئی۔ پہلے پوسٹر میں لکھا ہے کہ بنگال میں مودی کا خاندان کس کے ساتھ ہے ؟ جواب: خطرناک مجرموں کے ساتھ ہے۔ پوسٹروں کی اسی سیریز نے اس سال کے لوک سبھا انتخابات کے سبکدوش ہونے والے بی جے پی ایم پیز اور امیدواروں کی تصویروں کے ساتھ اعدادوشمار دیئے جن امیدواروں کے خلاف مجرمانہ مقدمات ہیں۔ مثال کے طور پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ امور اور کوچ بہار سے بی جے پی امیدوار نسیت پرمانک کے خلاف 44 مقدمات درج ہیں۔ مرشدآباد اسمبلی ایم ایل اے اور مرشدآباد سے لوک سبھا امیدوار گوری شنکر گھوش کے خلاف 23 مقدمات درج ہیں۔ اسی طرح ترنمول نے کھوگین مرمو، منوج تیگا، اداکار اور بی جے پی لیڈر ہیرن چٹرجی، سومترا خان، لاکٹ چٹرجی، جیوترموئے سنگھ مہات کے نام پر مجرمانہ مقدمات کی تعداد کو عام کیا ہے ۔بی جے پی نے بنگال کی حکمران جماعت کی اس گھناؤنی مہم پر جوابی تنقید کی ہے ۔ بی جے پی کے سابق ریاستی صدر راہول سنہا نے کہاکہ ترنمول کو پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی تصویر دیکھنی چاہیے۔
ان کے ارکان اسمبلی انتخابی مہم میں کہہ رہے ہیں کہ کارکن ووٹ مانگنے میں شرمارہے ہیں۔ترنمول کانگریس کے لیڈروں کو چور چور کہہ کر بلایا جارہا ہے ۔جہاں تک ترنمول کیسز کی بات کر رہی ہے ، ہمارے لیڈروں اور ایم پیز کے خلاف تمام کیسز ان کی ماتحت پولیس نے دیے ہیں۔ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔سیاسی رہنماؤں یا عوامی نمائندوں کے خلاف فوجداری کے مقدمات کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ لوک سبھا کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ مقدمات تھے ۔ کچھ معاملات میں عصمت دری اور قتل جیسے کیسز بعض ممبران پارلیمنٹ کے خلاف چل رہے ہیں ۔اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدواروں کوحلف نامہ دیتے وقت صرف فوجداری مقدمات کی تعداد ظاہر کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ کس قسم کے مقدمات ہیں، کون سی شقیں ہیں، اس کی بھی تفصیلی معلومات دینی ہوگی