مودی ‘ خطرناک مشن ’ون نیشن، ون لیڈر‘چلا رہے ہیں :کجریوال

,

   

lاپوزیشن کے ساتھ ساتھ بی جے پی لیڈروں کو بھی ٹھکانے لگا نے میں مصروف
lاگلے 2ماہ میں یوگی کو بدل دیں گے‘ ضمانت پر رہائی کے بعد جذباتی پریس کانفرنس

نئی دہلی: دہلی شراب پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں 10 مئی کو سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد اروند کجریوال آج متحرک نظر آئے۔ سب سے پہلے وہ کناٹ پلیس کے ہنومان مندر پہنچے اور پوجا کی۔ اس کے بعد کجریوال عام آدمی پارٹی کے ہیڈ کوارٹر پہنچے جہاں ان کااستقبال کیا گیا۔ کجریوال نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔عآپ کے ایک تحریک ایک سوچ ہے جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔کجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نے بہت خطرناک مشن چلایا ہے، جس کا نام ہے ’ون نیشن، ون لیڈر‘ یعنی ایک ملک ایک لیڈر۔ اس کے تحت وہ ملک کے تمام لیڈروں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس مشن کو دو سطحوں پر چلا رہے ہیں، پہلے تو وہ تمام اپوزیشن لیڈروں کو جیل بھیج دیں گے اور اس کے بعد تمام بی جے پی لیڈروں کو ٹھکانے لگائیں گے اور ان کی سیاست کا خاتمہ کر دیں گے!انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر منیش سسودیا، سنجے سنگھ، ستیندر جین، کجریوال کو جیل بھیج دیا گیا۔ ہیمنت سورین کو جیل بھیج دیا گیا۔ ممتا دیدی کے کئی وزراء کو جیل بھیج دیا گیا۔ اسٹالن کے وزراء کو جیل بھیج دیا گیا۔ وہ کیرالا کے چیف منسٹر کے پیچھے ہیں۔ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو میں حلف نامہ پر لکھ کر دے سکتا ہوں کہ کچھ دنوں کے بعد ممتا دیدی، تیجسوی یادو، اسٹالن، پنارائی وجین، ادھو ٹھاکرے جیل کے اندر ہوں گے!کجریوال نے مزید کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے کسی لیڈر کو نہیں بخشا۔ اڈوانی، مرلی منوہر، سمترا مہاجن کی سیاست کا خاتمہ کر دیا۔ مدھیہ پردیش کا الیکشن جیت کر انہیں دینے والے شیوراج سنگھ چوہان کی سیاست ختم کر دی۔ وسندھرا راجے، منوہر لال کھٹر، رمن سنگھ کی سیاست بھی ختم ہو گئی۔ اب اگلا نمبر یوگی آدتیہ ناتھ کا ہے۔ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو مجھ سے لکھا لیں کہ اگلے دو ماہ کے اندر وہ اتر پردیش کا وزیر اعلیٰ بدل دیں گے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست کو ختم کر کے وہ انہیں بھی نمٹا دیں گے۔ یہ آمریت ہے۔ ون نیشن ون لیڈر کا مطلب ہے کہ ملک میں صرف ایک لیڈر رہ جائے گا۔کجریوال نے کہا کہ میں اپنے ملک کو اس آمریت سے بچانے کے لیے 140 کروڑ لوگوں سے بھیک مانگنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے مجھے 21 دن کا وقت دیا۔ ایک دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں، میں اس آمریت کو روکنے کیلئے ملک بھر کا سفر کروں گا۔ میرے خون کا ایک ایک قطرہ وطن پر قربان ہے۔کجریوال نے کہا کہ مودی جی اگلے سال 17 ستمبر کو 75 سال کے ہو رہے ہیں۔ 2014 میں مودی جی نے ایک اصول بنایا تھا کہ بی جے پی میں جو بھی 75 سال کا ہوگا وہ ریٹائر ہو جائے گا، پہلے ایل کے اڈوانی ریٹائر ہوئے، پھر مرلی منوہر جوشی، سمترا مہاجن، یشونت سنہا ریٹائر ہوئے۔ اب مودی جی اگلے سال 17 ستمبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔ میں بی جے پی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا وزیر اعظم کا امیدوار کون ہے؟ وہ مودی جی کے سب سے اہم شخص امیت شاہ جی کو وزیر اعظم بنائیں گے۔ کجریوال نے کہا کہ مودی جی اپنے لیے نہیں امیت شاہ کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے عہدے کا لالچ نہیں۔کجریوال نے کہا کہ آپ (بی جے پی) کوئی کام نہیں کرتے اور عام آدمی پارٹی کو کچلتے ہیں، یہ جمہوریت نہیں ہے۔ 75 سالوں میں کسی اور پارٹی کے لیڈروں کو اتنا ہراساں نہیں کیا گیا جتنا عآپ کو ہراساں کیا گیا ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ ہم بدعنوانی سے لڑ رہے ہیں، انہوں نے بدعنوان لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کیا ہے۔ کسی کو ڈپٹی سی این اور کسی کو وزیر بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کرپشن کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں تو ہم سے سیکھیں۔ پنجاب کے اندر ہمارے وزیر نے پیسے مانگے، کسی کو پتہ نہیں چلا۔ لیکن ہم نے اس کے خلاف کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال کو گرفتار کر کے یہ پیغام دیا کہ اگر میں کجریوال کو گرفتار کر سکتا ہوں تو کسی کو بھی گرفتار کر سکتا ہوں!

کجریوال کے گھر پر پارٹی کا آج اہم اجلاس
نئی دہلی : چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کو جمعہ کو سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی۔ اس کے ساتھ ہی جیل سے باہر آنے کے بعد کجریوال نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل عام آدمی پارٹی کا ایک اہم اجلاس کجریوال کے مکان پر منعقد ہوگا جس میں کجریوال دہلی کے تمام ایم ایل ایز کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔ یہ میٹنگ کل صبح دہلی میں انٰ کی رہائش گاہ پر ہوگی۔ تہاڑ جیل سے باہر آنے کے بعد کجریوال کی یہ پہلی بڑی میٹنگ ہے۔