ہر سال دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ یکسر فراموش، 10 سالوں میں کروڑوں لوگ بیروزگار
نئی دہلی : کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہر سال 2 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اور 10 سالوں میں 20 کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کرانا تھا، لیکن اس دوران الٹے 12 کروڑ لوگوں کی نوکریاں چھین لیں۔ کھرگے نے کہا کہ انتخابات کا سب سے بڑا معاملہ نوجوانوں کے لیے روزگار ہے ۔ مودی جی کی سینکڑوں ریلیوں میں، آپ نے ان سے کبھی نہیں سنا کہ ان کی حکومت نے پچھلے 10 سالوں میں کتنی نوکریاں فراہم کی ہیں۔ 10 سال میں 20 کروڑ نوکریاں دینی تھیں اس کے بجائے 12 کروڑ سے زائد نوکریاں چھین لی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ‘یووا نیائے ’ کے تحت روزگار میں انقلاب لائے گی، تاکہ ہم بھرتی کے امتحانات سے لے کر نوکری حاصل کرنے تک کے سفر کو آسان بنا سکیں۔ بھرتی بھروسہ – 30 لاکھ سرکاری ملازمت کی جائیدادیں پُر کی جائیں گی۔ پہلی نوکری پکی۔ اپرینٹس شپ کے حق سے ہر ڈگری ، ڈپلومہ یافتہ کی پہلی نوکری پکی اور ایک سال میں ایک لاکھ روپے کا اعزازیہ دیا جائے گا۔ پیپر لیک سے آزادی دی جائے گی اور نوکری امتحانات کے لئے پیپر لیک ہونے کے معاملوں کو نمٹانے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹس قائم کرکے متاثرین کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ گگ اکانومی کے لیے سماجی تحفظ – ہم گگ اکانومی میں کام کرنے والے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سماجی تحفظ کا قانون نافذ کریں گے ۔ یووا روشنی کے تحت اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈز آف فنڈ اسکیم کی تشکیل نو کرے گی اور دستیاب فنڈ کا 50 فیصد یعنی 5,000 کروڑ روپے جہاں تک ممکن ہو، ملک کے تمام اضلاع میں یکساں طور پر مختص کیے جائیں گے ، تاکہ ملک بھر میں 40 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے فنڈز فراہم کرایا جاسکے ، جس سے وہ اپنے کاروبار اور روزگار کو بڑھا سکے اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس محب وطن نوجوانوں پر لگائی گئی اگنی ویر اسکیم کو بند کر دے گی۔ وسیع پیمانے پر بے روزگاری کی وجہ سے ، کانگریس تمام طلباء کے تعلیمی قرضوں کے سلسلے میں 15 مارچ 2024 تک سود سمیت قرض کے واجبات معاف کر دے گی اور بینکوں کو حکومت کی طرف سے ادائیگی کی جائے گی۔ 21سے کم کمر کے باصلاحیت اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو ماہانہ 10,000 کی اسپورٹس اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ کھرگے نے کہا کہ کانگریس حکومت سرکاری امتحانات اور سرکاری آسامیوں کے لیے درخواست کی فیس کو ختم کر دے گی۔ ان درخواست دہندگان کو ایک بار کی راحت دی جائے گی جو وبا کے وقت یکم اپریل 2020 سے 30 جون، 2021 کے دوران سرکاری امتحانات میں شرکت نہیں کر سکے تھے ۔ عمل کریں گے اپنی ہر بات۔ ہاتھ بدلے گا حالات۔
ملک میں صرف دو آدمی سب کچھ بیچتے اور دو خریدتے ہیں
صدر کانگریس ملک ارجن کھرگے کا ستنا میں انتخابی ریالی سے خطاب
ستنا: کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر ایک کے بعد ایک حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دو لوگ رہ گئے ہیں جو سب کچھ بیچنے والے اور دو آدمی سب کچھ خریدنے والے بچے ہیں اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی ’لانڈری‘میں آدمی بھی مسلسل دھل دھل کر ’صاف‘ہو رہے ہیں۔ کھرگے مدھیہ پردیش کے ستنا میں پارٹی امیدوار سدھارتھ کشواہا کی حمایت میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس سے پہلے کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کو اس اجتماع سے خطاب کرنے کیلئے آنا تھا، لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے وہ یہاں نہیں آسکے ، کھرگے نے اپنے خطاب میں مسلسل وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دو لوگ رہ گئے ہیں جو سب کچھ بیچنے والے اور دو آدمی سب کچھ خریدنے والے بچے ہیں مودی۔ شاہ، ہوائی اڈے ، سڑکیں، ریلوے ، بڑے بڑے عوامی ادارے ، سب کچھ بیچنے جا رہے ہیںجبکہ اڈانی اور امبانی سب کچھ خریدتے جا رہے ہیں۔ ملک میں صرف بڑے صنعت کاروں کے قرضے معاف کیے جا رہے ہیں لیکن غریب کسانوں کے قرضے کہیں معاف نہیں ہوئے ۔ جو لوگ کانگریس کے ساتھ تھے جب بدعنوان تھے وہ بی جے پی کے ساتھ کیسے اچھے ہوگئے ؟
اسے وزیر بنایا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کے پاس ایک بہت بڑی لانڈری ہے ، اس میں ایک بہت بڑی واشنگ مشین ہے ۔ میں نے پہلی بار سنا ہے کہ آدمی بھی شاہ کی لانڈری میں دھل کر ‘صاف’ ہوتے ہیں۔ اب تک 27 لوگوں کو صاف کرکے باہر نکالا جاچکا ہے ۔ کھرگے نے آئین کو تبدیل کرنے سے متعلق بی جے پی کے کئی ممبران پارلیمنٹ کے مبینہ بیانات پر بھی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر امبیڈکر اوپر سے آجائیں تب بھی آئین نہیں بدلے گا، اگر یہ سچ ہے تو پھر ان کے ایم پی، ایم ایل اے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ بھگوت آئین کو بدلنے کی بات کیوں کرتے ہیں۔انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اگر اس حکومت کو واپس لایا گیا تو ملک میں جمہوریت ختم ہو جائے گی۔اس سے پہلے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا اتحاد کو ان 102 نشستوں پر بھاری اکثریت ملے گی جہاں پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بہت جھوٹ بولتے ہیں۔ بیرون ملک سے بلیک منی لانے ، ہر ایک کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے آنے ، ہر سال 2 کروڑ نوکریاں دینے اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی بات کی، لیکن کسی کو کچھ نہیں ملا۔ یہ سب ان کا جھوٹ تھا۔انہوں نے غریبوں کو مفت اناج فراہم کرنے کی مرکزی حکومت کی اسکیم پر بھی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی کا حق پچھلی کانگریس حکومت میں بنایا گیا تھا، اس کے بعد مودی مفت کی بات کیسے کر سکتے ہیں، ویسے بھی یہ کانگریس کا بنایا ہوا قانون ہے ۔