مودی نے پنجابیت کو بدنام کرنے میں کسر نہیں چھوڑی، یکم جون کو پنجاب سمیت دیگر ریاستوں میں ووٹنگ سے قبل منموہن سنگھ کا خط
نئی دہلی : سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے لوک سبھا انتخابات2024 کے آخری مرحلے میں پنجاب میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل پنجاب کے ووٹروں کو ایک خط لکھا۔ ووٹروں سے جذباتی اپیل کی ہے ،تاکہ ہماری جمہوریت اور آئین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے “آخری موقع’’ کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔اس میں انہوں نے پنجاب کے لوگوں سے بی جے پی کی حکومت نہ بنانے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہوں نے ہندوستان کی معیشت کو ہونے والے نقصان کے بارے میں اپنی رائے دی۔تین صفحات کے خط میں منموہن سنگھ نے کسانوں کی تحریک سمیت اہم واقعات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پنجاب، پنجابیوں اور پنجابیت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ دہلی کی سرحدوں پر انتظار کرتے ہوئے 750 کسان شہید ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر (500) پنجاب کے کسان تھے۔مودی جی نے انتخابات کے دوران نفرت انگیز تقاریر کیں۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ وہ ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے “نفرت انگیز اور غیر پارلیمانی’’ تقریریں کرکے وزیر اعظم کے دفتر کے وقار کو گھٹا رہے ہیںوہ پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے عہدے کے وقار کو گھٹایاہے۔میں اس انتخابی مہم کے دوران سیاسی بحث کو بہت غور سے دیکھ رہا ہوں۔ مودی جی نفرت انگیز تقاریر میں مصروف ہیں، جو سراسر تفرقہ انگیز ہیں۔مودی جی پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے عہدے کے وقار کو کم کیا۔ کسی بھی سابق وزیراعظم نے کسی مخصوص طبقے یا اپوزیشن کو نشانہ بنانے کے لیے ایسی گھٹیا، غیر پارلیمانی اور گھٹیا زبان استعمال نہیں کیانھوں نے مجھے کچھ غلط بیانات کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔انہوں نے لکھا کہ اپنی زندگی میں کبھی ایک کمیونٹی کو دوسری کمیونٹی سے ممتاز نہیں کیا۔ یہ بی جے پی کی خاص عادت ہے ۔منموہن سنگھ نے اپنے خط میں کہا کہمیرے پیارے ہم وطنو، ہندوستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ووٹنگ کے آخری مرحلے میں، ہمارے پاس اس بات کو یقینی بنانے کا ایک آخری موقع ہے کہ جمہوریت اور ہمارا آئین ہندوستان میں آمریت قائم کرنے کی کوشش کرنے والی آمرانہ حکومت کے بار بار حملوں سے محفوظ رہے۔منموہن سنگھ نے کسان انصاف کے تحت کانگریس کی 5 ضمانتوں کا تذکرہ بھی کیا ۔کانگریس۔یو پی اے حکومت نے 3.73 کروڑ کسانوں کو 72,000 کروڑ روپے کی قرض معافی فراہم کی، ایم ایس پی میں اضافہ کیا، اس کا دائرہ کار بڑھایا، برآمدات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کیا۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے دور حکومت میں گزشتہ 10 سالوں کے مقابلے میں زراعت میں دوگنی ترقی ہوئی۔اب کانگریس پارٹی نے ہمارے منشور میں کسان انصاف کے تحت 5 ضمانتیں دی ہیں۔