دس سالہ دور حکومت میں اب تک ملک نے اپنا بحری لڑاکا طیارہ تیار نہیں کیا
نئی دہلی ۔ 23 اگست (ایجنسیز) وزیرِاعظم نریندر مودی کا ’’آتم نربھرتا‘‘ یعنی خود انحصاری کا خواب حقیقت سے کوسوں دور دکھائی دیتا ہے اور بحریہ کی فضائی طاقت کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مودی حکومت کی نااہلی کا یہ حال ہے کہ دس سال گزرنے کے باوجود اب تک اپنا بحری لڑاکا طیارہ تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ دفاعی منصوبوں میں کرونی ازم نے معاملات مزید خراب کر دیے ہیں اور مودی نے اپنے قریبی صنعت کاروں کو نوازنے کی دوڑ میں خودکفالت کی قربانی دے دی ہے۔ اڈانی اور امبانی جیسے بڑے سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے کے نتیجے میں دفاعی منصوبہ تعطل کا شکار ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق ’’جڑواں انجن والا ڈیک پر مبنی لڑاکا طیارہ‘‘ (ٹی ای ڈی بی ایف) تاخیر اور غیر یقینی مستقبل کا شکار ہے۔ بحریہ نے نہ صرف تیجس ایم کے-2 (نیول) اور ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایئرکرافٹ (اے ایم سی اے) کے بحری ماڈلز کو منصوبہ میں شامل کرنے سے انکار کیا بلکہ زیادہ وزن اور کم پے لوڈ صلاحیت کی وجہ سے تیجس ایم کے-1 کو بھی ناموزوں قرار دیا۔ حتیٰ کہ بحریہ نے اس طیارہ کی محدود شمولیت کی تجویز بھی مسترد کر دی۔ مزید برآں، بحریہ نے تیجس ایم کے-2 کے بحری ماڈل میں بھی دلچسپی ظاہر نہیں کی اور اپنی ترجیحات زیادہ صلاحیتوں والے جڑواں انجن جنگی طیارے ’’ٹی ای ڈی بی ایف‘‘ پر مرکوز کردیں۔ تاہم یہ منصوبہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود اب بھی ڈیزائن اور تیاری کے مرحلے میں ہے اور اس کے کئی اہم تکنیکی جائزہ مکمل نہیں ہوسکے۔ رپورٹس کے مطابق اس طیارہ کی پہلی پرواز 2029 یا 2030 میں متوقع ہے، جبکہ بحریہ میں اس کی شمولیت 2038 تک ممکن ہوسکے گی۔ تاخیر، سامان کی فراہمی کے مسائل اور بڑھتی لاگت نے اس منصوبہ کی بروقت تکمیل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ دوسری جانب چین پہلے ہی J-20 اور J-35 جیسے جدید پانچویں نسل کے لڑاکا طیارہ اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرچکا ہے، جس سے بحریہ کے لیے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک ٹی ای ڈی بی ایف بحریہ کا حصہ بنے گا، اس وقت تک یہ 4.5 جنریشن کا طیارہ پرانا ہوچکا ہوگا۔ اسی دوران بحریہ نے 26 رافیل-ایم طیارے اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرلیے ہیں، جس نے مقامی ’’ٹی ای ڈی بی ایف‘‘ پروگرام کی ضرورت اور اہمیت کو مزید کمزور کردیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجس کی ناکامی، ٹی ای ڈی بی ایف کی تاخیر اور ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایئرکرافٹ پروگرام سے لاتعلقی نے بحریہ کی فضائی خودمختاری کو شدید خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ مودی حکومت کی نااہلی اور غیر ملکی طیاروں پر بڑھتا ہوا انحصار نہ صرف بھارتی بحری دفاعی خودمختاری کو ایک نازک موڑ پر لے آیا ہے بلکہ ’’آتم نربھرتا‘‘ کے دعوے کو بھی سوالیہ نشان میں بدل دیا ہے۔