مرکزی بجٹ مایوس کن، بیروزگاری میں اضافے کا اندیشہ، اتم کمار ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں سماج کے ہر شعبہ کو مایوس کردیا ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ کسانوں اور بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں بجٹ میں کوئی ٹھوس تجاویز پیش نہیں کی گئیں جبکہ نریندر مودی حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں میں ان طبقات کے لیے کئی وعدے کیئے تھے۔ اتم کمار ریڈی نے عوامی شعبہ کے اداروں سے سرمایہ کاری واپس لینے کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ اس فیصلے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تلنگانہ کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ کے سی آر حکومت بی جے پی سے بہتر تعلقات استوار کرنے کے باوجود کوئی پراجیکٹ یا فنڈس حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی دوران ایک اور رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے مرکزی بجٹ کو مخالف تلنگانہ بجٹ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ سنگین ناانصافی کی گئی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ عوام نے بجٹ سے توقعات وابستہ کی تھیں لیکن حکومت نے مایوس کردیا ہے۔ بجٹ میں کسانوں کی بھلائی کا کوئی تذکرہ تک نہیں کیا گیا حالانکہ نریندر مودی کسانوں کے بارے میں کہنے سے نہیں تھکتے۔ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کا کوئی تذکرہ بجٹ میں شامل نہیں ہے۔ اس قانون کے تحت دونوں ریاستوں کے ساتھ کئی وعدے کئے گئے تھے۔ دونوں ریاستوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں مرکزی حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس طرح مرکزی بجٹ مخالف تلنگانہ بجٹ ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں کے سی آر نے نریندر مودی کا بھجن کیا لیکن مرکز نے ریاست کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہے۔ تلنگانہ میں ٹرائبل یونیورسٹی اور اسپورٹس کے لیے فنڈس مختص نہیں کئے گئے۔ کالیشورم کو قومی پراجیکٹ کا درجہ دینے اور قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کے قیام کے علاوہ بیارم اسٹیل پلانٹ کا مرکزی بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر شخصی وجوہات کے سبب مرکزی حکومت پر دبائو بنانے سے قاصر ہیں۔ وینکٹ ریڈی نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کی اور کہا کہ اس فیصلے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس پارٹی عوام پر عائد کئے جانے والے بوجھ کے خلاف پارلیمنٹ اور اس کے باہر جدوجہد کرے گی۔
