مودی کا کے سی آر پر ریمارک تلنگانہ کی سیاست میں اہمیت کا حامل

   

کیا بی آر ایس ،وزیراعظم پر ہتک عزت کا مقدمہ درج کرے گی ؟
حیدرآباد۔4۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی این ڈی اے میں شمولیت کی کوششوں پر کئے گئے خلاصہ کے بعد یہ معاملہ ریاست کی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل بن چکا ہے اور یہ استفسار کیا جانے لگا ہے کہ کیابھارت راشٹر سمیتی یا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کریں گے!بھارت راشٹر سمیتی قائدین بالخصوص کلواکنٹلہ خاندان کی جانب ان پر عائد کئے جانے والے الزامات پر عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی روایت رہی ہے اور جب کبھی کوئی الزام ان پر عائد کیاگیا اس خاندان نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے الزام عائد کرنے والوں پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے جس کی مثال چیف منسٹر کے فرزند وریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے صدرپردیش کانگریس اے ۔ ریونت ریڈی کے خلاف دائر کیا گیا ہتک عزت کا مقدمہ اور چیف منسٹر کی دختر و رکن قانون ساز کونسل مسز کے ۔کویتا کی جانب سے بی جے پی قائدین کے خلاف دائر کیا جانے والا ہتک عزت کا مقدمہ ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے ان کے منشیات کے معاملہ میں ملوث ہونے کے الزام کے خلاف عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے الزام عائد کرنے والوں پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا اور مسز کے کویتا نے ان پر شراب اسکام میں ملوث ہونے کے الزام عائد کرنے والے بھارتیہ جنتاپارٹی قائدین کے خلاف عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔گذشتہ یوم وزیر اعظم نریندر مودی نے نظام آباد میں ایک عوامی جلسہ کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ان کی ملاقات کے دوران ہوئی بات چیت بالخصوص این ڈی اے میں شمولیت کی کوششوں کے متعلق جو انکشاف کیا ہے وہ ریاست کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کرچکا ہے کیونکہ اگر واقعی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اس بات کی کوشش کر رہے تھے تو وہ سیکولر ہوہی نہیں سکتے اور جب وزیر اعظم خود یہ بات کہہ رہے ہیں تو بی آر ایس جوابی بیانات کے بجائے ٹھوس کاروائی کرے اور اسی طرح ان کے خلاف بھی ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرے جس طرح سے ریونت ریڈی اور دیگر بی جے پی قائدین پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ ریاست کی مسلم تنظیموں کے سرکردہ قائدین کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ یا ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ بیانات یا کانوں کو خوش کرنے کی کوششوں کے بجائے وزیر اعظم کے خلاف بھی اسی طرح کا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے قانونی کاروائی کریں جس طرح سابق میں بے بنیاد الزامات پر کی گئی تھی۔ مسلم تنظیموں کا کہناہے کہ وزیر اعظم نے جو انکشاف کیا ہے وہ بھارت راشٹر سمیتی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر سنگین الزام ہے اور اگر یہ الزام درست نہیں ہے تو ایسی صورت میں چیف منسٹر کو وزیر اعظم کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئے ۔واضح رہے کہ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے جاریہ سال کے اوائل میں بھی ریونت ریڈی اور بنڈی سنجے پر 100 کروڑ کا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں قائدین تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے گروپ I امتحانات کے پرچہ سوالات کے متعلق عائد کئے جانے والے الزامات پر برسرعام معذرت خواہی یا 100 کروڑ کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔