مودی کو شکست دینے سے پہلے کے سی آر اور مجلس کو ہرانا ضروری: راہول

   

کانگریس کو ہرانے کیلئے مجلس ہندوستان بھر میں گھوم کر الیکشن لڑ رہی ہے، پیسہ بھی مل رہا ہے

حیدرآباد۔/28 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی نے بی آر ایس اور مجلس پر بی جے پی کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا اور سوال کیا کہ کے سی آر اور اسد اویسی کے خلاف ایک بھی مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا۔ راہول گاندھی نے آج انتخابی مہم کے آخری دن نامپلی اسمبلی حلقہ میں کانگریس امیدوار فیروز خاں کی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی، بی آر ایس اور مجلس کی دوستی کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ دہلی میں نریندر مودی کو شکست دینے کیلئے ضروری ہے کہ تلنگانہ میں کے سی آر اور اسد اویسی کو شکست دی جائے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی سے مقابلہ کرنے پر ان کے خلاف 24 مقدمات درج کئے گئے۔ نفرت کا پرچار کرنے والے نریندر مودی سے میں لڑ رہا ہوں اور بھارت جوڑو یاترا نے ہندوستان کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ملک کی ہر ریاست میں میرے خلاف مقدمات ہیں اور عدالتوں میں طلب کیا جاتا ہے۔ ہتک عزت معاملہ میں مجھے دو سال کی سزا سنائی گئی، لوک سبھا کی رکنیت ختم کردی گئی اور میرا سرکاری گھر چھین لیا گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا گھر نہیں چاہیئے، میرا گھر کسی عمارت میں نہیں ہے بلکہ ہندوستانیوں کے کروڑوں دلوں میں میرا گھر ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ نظریاتی لڑائی میں بی جے پی سے مفاہمت کا سوال ہی پید نہیں ہوتا اور میرا خاندان کئی برسوں سے نظریاتی لڑائی لڑ رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مجھ پر 24 مقدمات درج کئے گئے لیکن اویسی کے خلاف ایک بھی کیس نہیں ہے۔ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ میرے خلاف کام کرتے ہیں لیکن اویسی کے خلاف کسی بھی ادارہ نے کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور اویسی دونوں بی جے پی کی مدد کرتے ہیں لہذا ان کے خلاف ایک بھی مقدمہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی رکنیت ختم کی گئی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ آسام میں جہاں مجلس کا کوئی ووٹ نہیں ہے لیکن بی جے پی کی مدد کیلئے امیدوار کھڑے کئے جاتے ہیں۔ بی جے پی سے امیدواروں کی فہرست حاصل کرکے میدان میں اتارا جاتا ہے۔ مہاراشٹرا، آسام، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور گوا جہاں بھی کانگریس کو نقصان پہنچانا ہو مجلس بی جے پی کی مدد کیلئے کھڑی ہوجاتی ہے۔ مودی کو سلیوٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم آپ کی مدد کیلئے تیار ہیں۔ ملک سے نفرت کو مٹانا میری اولین ترجیح ہے جس کیلئے دہلی میں نریندر مودی کو ہرانا ہوگا اس کیلئے سب سے پہلے تلنگانہ میں کے سی آر کو شکست دینا ضروری ہے۔ راہول گاندھی نے بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس پر ملکر کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بدعنوان حکومت کے باوجود کے سی آر کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ لوک سبھا میں 24 گھنٹے بی آر ایس ارکان مودی حکومت کی تائید کرتے رہے ہیں۔ جی ایس ٹی، نوٹ بندی، کسان بل اور دیگر امور میں مودی حکومت کی مدد کی گئی۔ مرکز اور تلنگانہ میں دونوں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں اور مجلس ان دونوں کے ساتھ ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کے سی آر زمینداروں کی حکومت چلارہے ہیں جبکہ ہم عوامی حکومت تشکیل دیں گے۔ شراب، اراضی اور ریت کے معاملات میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتا ہے اور یہ تینوں امور چیف منسٹر کے رشتہ داروں کے پاس ہیں۔ کالیشورم پراجکٹ میں ایک لاکھ کروڑ کی لوٹ مچائی گئی اور یہ وزارت چیف منسٹر کے پاس ہے۔ دھرانی پورٹل کے بہانے 20 لاکھ افراد سے اراضی چھین لی گئی۔ راہول گاندھی نے کانگریس کے کارنامے بیان کرتے ہوئے کے سی آر سے کہا کہ جس یونیورسٹی اور کالج میں آپ نے تعلیم حاصل کی وہ کانگریس نے قائم کیا ہے۔ حیدرآباد میں میٹرو ٹرین کانگریس کا کارنامہ ہے۔ جس ایر پورٹ سے کے سی آر بیرون ملک سفر کرتے ہیں اسے کانگریس نے بنایا ہے۔ حیدرآباد کو انفارمیشن ٹکنالوجی کا مرکز کانگریس کا کارنامہ ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کے سی آر حکومت کا وقت ختم ہوچکا ہے اور کچھ ہی دنوں میں ’ بائے بائے کے سی آر ‘ ہوجائے گا۔ راہول گاندھی نے چھ ضمانتوں کا اعلان کیا جس میں خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے امداد، 500 روپئے میں گیس سلینڈر، خواتین کو آر ٹی سی میں مفت سفر کی سہولت، زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی اور ہر منڈل میں انٹر نیشنل اسکول کا قیام شامل ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ جو بھی چیف منسٹر بنے گا ان سے صاف کہہ دوں گا کہ کے سی آر نے غریبوں سے جتنی رقم حاصل کی ہے وہ غریبوں کی جیب میں واپس کی جائے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہماری لڑائی نفرت اور تشدد کے خلاف ہے۔ نریندر مودی اور آر ایس ایس ملک میں نفرت پھیلارہے ہیں۔ نفرت کے ان سوداگروں کو کے سی آر اور مجلس کی مدد حاصل ہے لہذا انہیں پہلے شکست دینا ہوگا۔ نامپلی کی الیکشن ریالی سے جوبلی ہلز کے امیدوار محمد اظہر الدین، نامپلی امیدوار محمد فیروز خاں کے علاوہ عثمان محمد خاں اور راشد خاں نے مخاطب کیا۔