مودی کو وزیرریلوے کا استعفیٰ طلب کرنا چاہیئے : کانگریس

   

مرکزی حکومت پر ہر سال ریلوے پٹریوں کی مرمت اور تجدید کا بجٹ کم کرنے کا الزام

نئی دہلی: کانگریس نے اتوار کو اڈیشہ میں ٹرین حادثے کوانتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حادثے میں تقریباً 300 معصوم مسافروں کی موت ہوئی، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کوحادثہ کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر ریلوے اشونی وشنو کا استعفیٰ لینا چاہیے ۔کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا اور پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی شکتی سنگھ گوہل نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ پہلے بڑے ٹرین حادثے کی ذمہ داری لیتے ہوئے اس وقت کے ریلوے وزراء لال بہادر شاستری، مادھو راؤ سندھیا اور نتیش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس مرتبہ مسٹر مودی کو اخلاقی ذمہ داری کی بنیاد پر وزیر ریلوے کا استعفیٰ طلب کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا، “استعفی دینے کا مطلب اخلاقی ذمہ داری لینا ہے ۔ اس حکومت میں نہ تو ذمہ داری نظر آتی ہے اور نہ ہی اخلاقیات۔ وزیر اعظم جی، یہ ملک امید کرتا ہے کہ جس طرح لال بہادر شاستری جی، نتیش کمار جی، مادھو راؤ سندھیا جی نے استعفیٰ دیا تھا… اسی طرح آپ بھی اپنے وزیر ریلوے کا استعفیٰ لیں۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ مودی حکومت میں ہر سال ریلوے پٹریوں کی مرمت اور تجدید کا بجٹ کم ہو رہا ہے ۔ یہی نہیں جو بجٹ ہے وہ استعمال نہیں ہو رہا۔ سی اے جی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 2017 سے 2021 کے درمیان ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے کل 1127 واقعات ہوئے ہیں۔مرکزی حکومت پر ریلوے کو کھوکھلا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ہم ہائی اسپیڈ ٹرینوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن 10-15 چمکدار ٹرینیں دکھا کر آپ پورے ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیں گے ، یہ قابل قبول نہیں ہے ۔ آپ وزیر ریلوے کی ٹویٹر ٹائم لائن پر جائیں گے تو آپ کو ریلوے کی حقیقت نظر آجائے گی۔ محکمہ ریلوے میں 3.12 لاکھ آسامیاں خالی ہیں۔ 9 فروری کو وزارت ریلوے میں سرکولیٹ ہونے والی ایک اندرونی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سگنل انٹر لاکنگ سسٹم میں خرابی تھی۔ اگر یہ ٹھیک نہ کیا گیا تو حادثات ہوتے رہیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ حکومت نے اس رپورٹ کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا وزیراعظم صدی کے سب سے خوفناک حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر ریلوے کا استعفیٰ لیں گے ؟ اس حوالے سے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پر وزیراعظم کی جانب سے جواب کون دے گا۔انہوں نے کہا کہ آزادی سے پہلے برطانوی حکومت ریلوے کی حفاظت کے لیے انجینئرز کی ایک الگ ٹیم رکھتی تھی جو ریلوے ٹریکس کی حفاظت اور مرمت کا کام دیکھتی تھی۔ آزادی کے بعد ہماری حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ ریلوے اپنا منافع دیکھے گی۔ ایسے میں مسافروں اور ریلوے کی حفاظت کی فکر کرتے ہوئے ایک علیحدہ ریلوے سیفٹی کمیشن بنایا گیاتھا، جسے سول ایوی ایشن کے تحت رکھا گیا۔ رپورٹ میں ریلوے بورڈ کی یہ کہتے ہوئے تنقید کی گئی تھی کہ وہ ریلوے سیفٹی کمیشن کی سفارشات پر توجہ نہیں دے رہاتھا۔

ہوا میں چھلے نہ اڑائیں،کیا تحقیقات اتنی جلدی مکمل ہو گئیں!
بالاسور ریل حادثہ پر کانگریس کا وزیرریلوے سے استفسار

نئی دہلی: اڈیشہ کے بالاسور میں دردناک ٹرین حادثہ نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تمام اپوزیشن پارٹیاں مرکزی وزیر ریلوے کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ وہیں وزیر ریلوے اشونی وشنو نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حادثہ انٹرلاکنگ میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا ہے جس کے بعد کانگریس نے ان کے دعوے پر سوال اٹھائے ہیں۔کانگریس لیڈر سنجے نروپم نے ٹوئٹ کیا کہ وزیر موصوف کہہ رہے ہیں کہ اصل وجہ کا پتہ چل گیا ہے۔ کمشنر، ریلوے سیفٹی نے تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ (اتنی جلد؟) مان لیا۔ پھر یا تو رپورٹ پبلک کریں یا اصل وجہ بتائیں۔ ہوا میں چھلے نہ اڑائیں کیونکہ یہ ایک قومی سانحہ ہے۔خیال رہے کہ بالاسور ٹرین حادثہ کے بعد ریلوے کے وزیر اشونی وشنو نے کہا کہ اس واقعہ کی اصل وجوہات کا پتہ چل گیا ہے اور یہ حادثہ انٹر لاکنگ میں تبدیلی کی وجہ سے پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کی بھی شناخت کر لی گئی ہے اور تحقیقاتی رپورٹ جلد سامنے لائی جائے گی۔ جس کے بعد کانگریس لیڈر سنجے نروپم نے ریلوے کے وزیر کو نشانہ بنایا۔ریلوے کے وزیر اشونی وشنو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کل (3 جون) دی گئی ہدایات پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ایک ٹریک کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ تمام کوچز کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ نعشوں کو باہر نکال لیا گیا ہے۔ کام تیزی سے جاری ہے اور چہارشنبہ کی صبح تک معمول کے راستے کو چلانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔قبل ازیں، کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا ’’مودی جی، آپ ہر روز وائٹ واش کی گئی ٹرینوں کو جھنڈی دکھانے میں مصروف ہیں لیکن ریلوے کی حفاظت پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ اوپر سے نیچے تک پوسٹوں کا احتساب کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کو روکا جاسکے تب ہی اس حادثے کے متاثرین کو انصاف ملے گا۔