دستور کی لال کتاب کے اربن نکسل ازم سے موازنہ پر تنقید ۔ ممبئی میں پریس کانفرنس
ممبئی: انگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے آج نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو آئین کی لال کتاب کا اربن نکسل ازم سے موازنہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وزیر اعظم نے اس وقت کے صدر رام ناتھ کووند کو اسی طرح کی کاپی دی تھی۔مہاراشٹرا میں 20 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے اپوزیشن مہا وکاس آغادی کا منشور جاری کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ ان کی پارٹی کا ذات پات کی مردم شماری کرانے کا مطالبہ لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں ہے بلکہ سمجھنا ہے۔ مختلف برادریوں کی موجودہ صورتحال کیسی ہے تاکہ وہ مزید فوائد حاصل کر سکیں۔ مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے حال ہی میں الزام لگایا تھا کہ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی لال کتاب کو اپنے ہاتھ میں دکھا کراربن نکسلس اور نراج پھیلانے والوں کی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اپنی ریلیوں میں آئین کے مختصر ایڈیشن کی سرخ ڈھکی ہوئی کتاب دکھا رہے ہیں۔کھرگے نے کہا کہ لال کتاب کو صرف حوالہ کیلئے استعمال کیا گیا ہے اور یہ پورا آئین نہیں ہے۔مودی اور کووند کی تصویر دکھاتے ہوئے، انہوں نے کہا، یہاں تک کہ نریندر مودی نے 26 جولائی 2017 کو اس وقت کے صدر رام ناتھ کووند کو اسی طرح کی ایک کاپی دی تھی۔کھرگے نے آئین کی لال کتاب بھی دکھایا اور کہا کہ اس میں خالی صفحات نہیں ہیں جیسا کہ مودی اور بی جے پی کے لوگ کہہ رہے ہیں۔وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے، کانگریس کے صدر نے کہاکہ مودی کو پرائمری اسکول میں دوبارہ داخلہ دینا ضروری ہے۔انہوں نے مہا وکھاس اکھاڑی منشور کو جامع اور شراکتی قرار دیا۔کھرگے نے کہا کہ مہاراشٹرا کیلئے ضروری ہے کہ وہ حکمران مہایوتی کو شکست دے اور استحکام اور اچھی حکمرانی کیلئے مہا وکھاس اگھاڑی کی حمایت کرے۔