مودی کیلئے چیف منسٹروں کا عوام کو ’رہن‘ رکھنے سے اتفاق ؟

,

   

Ferty9 Clinic

جی ایس ٹی معاوضہ کے بارے میں مرکز کی قرض سے متعلق تجویز سے عوام کے مستقبل کو خطرہ ۔ ریاستوں کو چوکسی کیلئے راہول کا مشورہ
نئی دہلی : کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے پیر کو اُن ریاستی حکومتوں پر طنز کیا جنھوں نے جی ایس ٹی معاوضہ کے مسئلہ پر مرکز کی قرض لینے کی تجویز پر اتفاق کرلیا ، اور عوام سے سوال کیا کہ کیوں اُن کے چیف منسٹرس اُن کا مستقبل وزیراعظم نریندر مودی کی خاطر داؤ پر لگارہے ہیں ۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ایک طرح سے ’’عوام کو رہن ‘‘ رکھ دینے کے مترادف ہے ۔ راہول نے ایک ٹوئیٹ میں کہا : ’’ .1 مرکز ریاستوں کے لئے جی ایس ٹی آمدنی کا وعدہ کرتا ہے ۔ .2 معیشت کو وزیراعظم اور کوویڈ نے تہس نہس کردیا ۔ .3 وزیراعظم 1.4 لاکھ کروڑ روپئے کی ٹیکس کٹوتی کارپوریٹ گھرانوں کو عطا کرتے ہیں ، خود کے لئے 8400 کروڑ روپئے کی لاگت سے دو طیارے خریدتے ہیں ۔ .4 مرکز کے پاس ریاستوں کو ادائیگی کے لئے رقم نہیں ہے ۔ .5 وزیرفینانس ریاستوں سے کہتی ہیں کہ قرض لو ۔ ‘‘راہول نے عوام سے سوال کیا کہ کیوں آپ کے سی ایم آپ کا مستقبل مودی کیلئے رہن رکھ رہے ہیں ۔ اگسٹ میں مرکز نے ریاستوں کو دو متبادل پیش کئے تھے کہ یا تو ریزروبینک آف انڈیا کی خصوصی سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے 97,000 کروڑ روپئے قرض لیں یا مارکٹ سے 2.35 لاکھ کروڑ روپئے حاصل کریں۔ مرکز نے لگژری اور بعض دیگر اشیاء پر عائد سیس کو 2022 تک آگے بڑھانے کی تجویز بھی رکھی تھی تاکہ قرض کی واپس ادائیگی میں سہولت ملے ۔ بعض ریاستوں کے تقاضوں پر 97,000 کروڑ روپئے کی رقم کو بڑھاکر 1.10 لاکھ کروڑ روپئے کیا گیا ۔ چند نہیں بلکہ 21 ریاستوں نے معاوضہ میں کمی کی تکمیل کیلئے 1.10 لاکھ کروڑ روپئے قرض لینے کے متبادل کو اختیار کیا۔ ان ریاستوں میں زیادہ تر بی جے پی حکمرانی والی ریاستیں ہیں یا پھر وہ جنھوں نے مختلف مسائل پر اس کی تائید و حمایت کی ہے ۔ مرکز نے رواں مالی سال میں ابھی تک ریاستوں کو جی ایس ٹی معاوضہ میں کمی کے ضمن میں 20,000 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں ۔ جی ایس ٹی کی ترکیب کے تحت ٹیکس 5، 12، 18 اور 28 فیصد سلاب کے تحت عائد کئے جاتے ہیں۔