کانگریس کو ہرانے بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس متحد، تلنگانہ عوام کیلئے کئی وعدوں کا اعلان، راہول اور پرینکا کا خطاب
حیدرآباد۔/18 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی الیکشن کیلئے کانگریس کی انتخابی مہم کا آج آغاز کرتے ہوئے راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نریندر مودی کے اشارہ پر چلنے والی کے سی آر حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے کانگریس کی زیر
قیادت عوامی حکومت کی تشکیل کو یقینی بنائیں تاکہ حقیقی معنوں میں سنہرا تلنگانہ قائم کیا جاسکے۔ راہول اور پرینکا نے اسمبلی چناؤ کیلئے پارٹی کی انتخابی مہم کا ضلع مُلگ میں بس یاترا کے ذریعہ آغاز کیا اور کانگریس کی جانب سے مختلف ضمانتوں کا اعلان کیا۔ ملگ میں بڑے جلسہ عام سے خطاب میں راہول گاندھی نے بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس کو شکست دینے کیلئے یہ تینوں پارٹیاں متحد ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت دراصل مودی کے اشارہ پر کام کررہی ہے اور حقیقی معنوں میں وہ بی جے پی کی بی ٹیم ہے۔ راہول نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے ساتھ مجلس بھی شامل ہوچکی ہے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کو کامیابی ملے اور انتخابات سے قبل ہی بی جے پی نے شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی بی آر ایس نے تائید
کی اور ان کا مقصد تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار سے روکنا ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی میں دوستی کا اہم ثبوت یہ ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور انکم ٹیکس کا کوئی کیس نہیں ہے ۔
جبکہ اپوزیشن قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ میرے خلاف 24 مقدمات ہیں، میرا گھر چھین لیا گیا اور لوک سبھا کی رکنیت ختم کردی گئی لیکن چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف ایک بھی کیس نہیں ہے۔ بی آر ایس کو ووٹ دینا بی جے پی کو ووٹ دینے کے مترادف ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان نظریاتی جنگ ہے اور کانگریس پارٹی تلنگانہ کے علاوہ ملک بھر میں بی جے پی کو شکست دے گی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی سے نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر کانگریس کی مفاہمت یا سمجھوتہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ 5 ریاستوں میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ الیکشن دراصل زمینداروں اور عوام کے درمیان لڑائی ہے۔ کانگریس نے 2004 میں علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا اور اسے پورا کر دکھایا۔ سیاسی پارٹیاں عام طور پر ایسا وعدہ نہیں کرتیں جس سے نقصان ہو، لیکن کانگریس نے سیاسی نقصان کی پرواہ کئے بغیر تلنگانہ عوام اور غریبوں کی بھلائی اور ان کے جذبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تلنگانہ تشکیل دیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے دلتوں اور قبائیل کو 3 ایکر اراضی، ہر گھر میں روزگار کا وعدہ کیا تھا لیکن ان وعدوں سے انحراف کرلیا گیا۔ دیانتدار حکومت کے بجائے بدعنوان حکومت تشکیل دی گئی۔ کالیشورم پراجکٹ میں ایک لاکھ کروڑ کی لوٹ مچائی گئی اور دھرانی پورٹل کے نام پر اراضیات کو چھین لیا گیا۔ انہوں نے کرناٹک، راجستھان اور دیگر کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں وعدوں کی تکمیل کا حوالہ دیا اور کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس اپنی تمام ضمانتوں پر عمل کرے گی۔ 500 روپئے میں گیس سلینڈر، مہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے کی مدد، رعیتو بھروسہ کے تحت کسانوں کو فی ایکر 15 ہزار روپئے کی امداد، غریبوں کو 200 یونٹ تک مفت برقی کی سربراہی، تلنگانہ کے مجاہدین آزادی کو 250 مربع گز اراضی، معمرین کیلئے ماہانہ 4 ہزار روپئے پنشن، طلبہ اور نوجوانوں کو تعلیم کیلئے 5 لاکھ روپئے تک کی امداد جیسے وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے تلنگانہ میں قبائیل کے تہوار ’سمکا سارکا‘ کو قومی تہوار قرار دینے کا وعدہ کیا۔ پرینکا گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عوام نے روزگار، سماجی انصاف اور تابناک مستقبل کا خواب دیکھا اور بی آر ایس پر بھروسہ کرتے ہوئے اقتدار عطا کیا لیکن بی آر ایس حکومت نے عوام کے خوابوں کو چکنا چور کردیا ہے۔ عوام کو امید تھی کہ کسانوں کی خودکشی کم ہوگی، ہر گھر میں روزگار کے ذریعہ خوشحالی آئے گی۔ کانگریس پارٹی نے عوام کے خواب کو سمجھا اور سیاسی نقصان کی پرواہ کئے بغیر سونیا گاندھی نے تلنگانہ تشکیل کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے معاملہ میں سونیا گاندھی نے سیاسی جرتمندی کا مظاہرہ کیا ہے حالانکہ اس فیصلہ سے تلنگانہ میں کانگریس کو نقصان کا اندیشہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی نقصان اور شکست کی پرواہ کئے بغیر عوام کی بھلائی میں کانگریس نے تلنگانہ کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ملک اور تلنگانہ نے کافی ترقی کی ہے لیکن بی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کی ترقی کو روک دیا اور کرپشن میں ملوث ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی ذمہ داری عوام کی بھلائی ہونی چاہیئے لیکن کے سی آر کو صرف حکومت بچانے کی فکر ہے۔ تلنگانہ کیلئے کانگریس نے ترقی اور بھلائی کا روٹ میاپ تیار کیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے مختلف طبقات کیلئے ضمانتوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں 40 لاکھ بیروزگار نوجوان ہیں اور کانگریس پارٹی ہر سال دو لاکھ جائیدادوں پر تقررات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ روزگار سے محرومی کے نتیجہ میں ایک طالبہ نے خودکشی کرلی لیکن اس کی کردار کشی کررہی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی کمی ہے اور یونیورسٹی فنڈز سے بھی محروم ہے۔ تلنگانہ میں ایک بھی سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی بلکہ بی آر ایس قائدین کو خانگی یونیورسٹیز الاٹ کی گئیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں میں ایک کو سرکاری ملازمت اور پسماندگان میں کسی ایک کو ماہانہ 25 ہزار روپئے پنشن دیا جائے گا۔ بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 4 ہزار روپئے پنشن ملے گا۔ خلیجی ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اسپیشل گلف سیل قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کسانوں کو فصلوں کیلئے اقل ترین امدادی قیمت کا اعلان کیا۔ کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کیا جائے گا اور قبائیل کو ان کی اراضیات واپس کی جائیں گی۔ انہوں نے درج فہرست اقوام کیلئے 18 فیصد اور درج فہرست قبائیل کیلئے 12 فیصد تحفظات کا اعلان کیا اور کہا کہ امبیڈکر ابھئے ہستم اسکیم کے تحت ایس سی، ایس ٹی طبقات کو 12 لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی۔ مکانات کی تعمیر کیلئے اراضی اور 6 لاکھ روپئے کی مدد کی جائے گی۔ 500 روپئے میں گیس سلینڈر اور 18 سال سے زائد عمر کی طالبات کو الیکٹرک اسکوٹی فراہم کی جائے گی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں مفاہمت ہوچکی ہے اور نریندر مودی کے ریموٹ کنٹرول سے کے سی آر حکومت چل رہی ہے۔ تلنگانہ میں اراضی، شراب، ریت اور کانکنی کا مافیا ہر طرف سرگرم ہے۔ کے سی آر حکومت کو عوام کی بھلائی اور روزگار کی فراہمی سے زیادہ مافیا کو بچانے کی فکر ہے۔ سنہرے تلنگانہ وعدہ کی تکمیل کے بجائے بی آر ایس قائدین نے اپنے لئے عالیشان محل تعمیر کئے اور عوام کے سپنوں کا محل چورچور کردیا۔ تلنگانہ کابینہ میں 18 میں 3 کے سی آر خاندان کے ارکان ہیں، 50 فیصد بی سی آبادی میں صرف 3 وزراء کو شامل کیا گیا۔ 34 فیصد بی سی تحفظات کو گھٹا کر 23 فیصد کردیا گیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے ملک بھر میں کاسٹ کی بنیاد پر مردم شماری کی تائید کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتہائی سمجھداری کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کریں اور اپنے بچوں کی تابناک مستقبل اور نوجوانوں کو روزگار کیلئے کانگریس کو ووٹ دیں۔ جلسہ عام سے ریونت ریڈی، اتم کمار ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، سیتکا اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔