نئی دہلی،18مئی(سیاست ڈاٹ کام)سپریم کورٹ 2019 کے عام انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کے الیکشن کے جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی کی سماعت اب جمعہ کو کرے گا۔اس کی سماعت آج کے لئے زیر فہرست تھی،لیکن نامعلوم وجہ سے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کے موجود نہ رہنے کی وجہ سے ان کے سامنے زیر فہرست سبھی معاملوں کی سماعت کے لئے 22 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ،جن میںمودی کے الیکشن کے خلاف عرضی بھی شامل ہے ۔بارڈر سکیورٹی فورس(بی ایس ایف)کے سابق جوان تیج بہادر یادو نے مودی کے خلاف وارانسی سے انتخابی پرچہ بھرا تھا لیکن وہ خارج ہوگیا تھا۔یادو نے مودی کے الیکشن کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا،لیکن گزشتہ سال دسمبر میں اس نے یہ کہتے ہوئے عرضی خارج کردی تھی کہ عرضی گزاروں کا نامزدگی پرچہ خارج ہوگیاتھا اور وہ امیدوار نہیں رہ گئے تھے ،اس لئے انہیں الیکشن کو چیلنج دینے کا کوئی حق نہیں ہے ۔یادو نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیاہے جس کی سماعت چیف جسٹس بوبڈے ،جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس رشی کیش رائے کی بنچ کو آج کرنی تھی ،لیکن جسٹس بوبڈے کے موجود نہیں تھے ۔
