مودی کے دور حکومت میں تلنگانہ کو زیادہ اہمیت

   

مرکزی حکومت کے 9 سالہ دور حکومت پر مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کی ’’ رپورٹ ٹو پیپول‘‘

حیدرآباد۔/17 جون، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں تلنگانہ کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے’ رپورٹ ٹو پیپول‘ کے نام سے جی کشن ریڈی نے مرکزی حکومت کی 9 سالہ کارکردگی اور تلنگانہ کو دی گئی اہمیت پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد 2014 تک مرکز سے ریاستوں کی ٹیکس حصہ داری صرف 32 فیصد تھی۔ مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ٹیکس کی حصہ داری کو 32فیصد سے بڑھا کر42 فیصد کردیا گیا۔ تلنگانہ کو مرکزی حکومت نے تاحال 1.78 کروڑ روپئے دیئے ہیں۔ ریجنل رنگ روڈ کیلئے 21,201 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کی ترقی کیلئے715 کروڑ روپئے، چیرلہ پلی ٹرمنل کی ترقی کیلئے 221 کروڑ، ایم ایم ٹی ایس کے سیکنڈ فیز کیلئے 1153 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ کشن ریڈی نے کہا کہ مرکز کے مختلف محکمہ جات سے 5 لاکھ کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ہیں۔ مودی حکومت کی تشکیل کے بعد سوائے ضلع پدا پلی کے ریاست کے تمام اضلاع کو نیشنل ہائی ویز سے مربوط کیا گیا ہے اس پر ایک لاکھ 8 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ حیدرآباد کیلئے گیم چینجر ثابت ہونے والی ریجنل رنگ روڈ کو مرکزی حکومت نے منظوری دی ہے۔ اس کیلئے حصول اراضی کیلئے بار بار ریاستی حکومت سے اپیل کی جارہی ہے۔9 سال کے دورن ریلوے ڈبلنگ کیلئے 87 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ قاضی پیٹ ریلوے ویاگن فیکٹری کجی منظوری دی گئی ہے جس سے 3 ہزار افراد کو روزگار حاصل ہوگا۔ فی الحال ملک میں 18 وندے بھارت ریل چل رہی ہیں جس میں دو ریل تلنگانہ میں چل رہی ہیں۔ حصول اراضی کی پیشرفت نہ ہونے کی وجہ سے ورنگل اور کتہ گوڑم میں ایر پورٹس کے قیام میں تاخیر ہورہی ہے۔ 2014 کے بعد تلنگانہ میں 11 آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کیلئے خصوصی فنڈز منظور کئے گئے ہیں۔ن