مودی کے نو سالہ دور حکومت میں ملک تمام شعبوں میں پیچھے

   

سوریا پیٹ میں بی جے پی و کانگریس کارکنوں کی بی آر ایس میں شمولیت، ریاستی وزیر جگدیش ریڈی کا خطاب

سوریاپیٹ۔ 19 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سوریاپیٹ میں بی جے پی و کانگریس قائدین اور سینکڑوں کارکنوں نے بی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ریاستی وزیر برقی و رکن اسمبلی سوریاپیٹ جگدیش ریڈی کی موجودگی میں، 34 ویں وارڈ کانگریس پارٹی کے رکن بلدیہ و سینئیر قائد ایم وکرم اور آتماکورو (ایس) منڈل سے کانگریس اور بی جے پی کے کئی قائدین اور کارکنان نے منعقدہ تقریب میں بی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وزیر جگدیش ریڈی نے انہیں گلابی کھنڈوا پہنا کر پارٹی میں شامل کیا۔ اس موقع پر وزیر جگدیش ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے سی آر کی زیر قیادت بی آر ایس حکومت کی حسن کارکردگی سے متاثر ہو کر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین و کارکنان جوق در جوق بی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔جگدیش ریڈی نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے نو سالہ دور حکومت میں ملک تمام شعبوں میں پیچھے چلا گیا ہے۔انہون نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی عوامی پیسے سے اڈانی کی تجوری بھر رہے ہیں۔ جگدیش ریڈی نے کہا کہ ملک بھر میں بی آر ایس پارٹی کی حمایت میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔جگدیش ریڈی نے کہا کہ مودی کی آبائی ریاست گجرات کے علاوہ مودی جس حلقہ سے لوک سبھا کی نمائندگی کرتے ہیں وارانسی میں بھی تلنگانہ کی طرح مسلسل بجلی کی فراہمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کے کئی مواضعات ایسے ہیں جہاں کے باشندوں کو آج تک بجلی کیسے ہوتی ہے یہ بھی معلوم نہیں ہے۔کرناٹک کے لوگ جہاں ڈبل انجن والی حکومت ہے تلنگانہ میں شمولیت کے لئے متفقہ قراردادیں منظور کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی صرف تاجروں کی پارٹی ہے بی جے پی کو عام لوگوں کی بھلائی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ جگدیش ریڈی نے کہا کہ پہلے شروع شروع میں یہ بتایا جاتا رہاکہ اڈانی کے اثاثے لاکھوں کروڑوں روپے تک بڑھ گئے ہیں بعد ازاں تیزی سے اڈانی کے شئیر گرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ کلیانہ لکشمی، کے سی آر کٹ اور ریتھ بندھو اسکیمیں جو ریاست تلنگانہ میں نافذ کی گئی ہیں ملک میں کہیں اور نافذ نہیں ہیں۔اس موقع پر صدر نشین بلدیہ سوریاپیٹ انا پورنما، نائب صدر نشین بلدیہ پی کشور، صدر ضلع لائیبریری این سرینواس گوڑ، نائب صدر نشین ضلع پریشد جی وینکٹ نارائنا گوڑ اور اراکین بلدیہ قائدین و کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی۔