مودی کے پاس پیسہ اور طاقت ہے لیکن وہ بھگوان نہیں ہیں

,

   

دہلی اسمبلی اجلاس میں اروند کجریوال کا بیان‘ بی جے پی پر سنگین الزامات

نئی دہلی : دہلی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق چیف منسٹر اروند کجریوال نے بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے اسمبلی میں کہا کہ آج میں اوپر والے کے کرم سے اور ملک کے کروڑوں لوگوں کی دعاؤں سے جیل سے چھوٹ کر آیا ہوں۔ مجھے اور منیش سسودیا جی کو آج یہاں دیکھ کر بی جے پی والے بڑے غمزدہ ہو رہے ہیں۔ پھرانہوں نے وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ اس دنیا کو چلانے والے بھگوان کا آشیرواد ہے۔ آج میں کہنا چاہوں گا کہ بھلے ہی نریندر مودی کے پاس خوب پیسہ اور طاقت ہے لیکن مودی بھگوان نہیں ہیں۔ آج دہلی اسمبلی اجلاس کا پہلا دن تھا اور چیف منسٹرعہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد کجریوال کا ایوان میں یہ پہلا دن تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے جیل بھیجنے کے پیچھے بی جے پی کا مقصد مجھے اور عآپ کو بدنام کرنا تھا لیکن تمام سازشیں ناکام ہوگئیں۔ یہ لوگ 27 سال سے دہلی کے اقتدار سے باہر ہیں اس لیے یہاں کی عوام کو پریشان کر کے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ کجریوال نے ایوان میں ایک بڑا دعویٰ یہ بھی کیاکہ تین چار دن قبل بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر سے وہ ملے اور ان سے سوال کیا کہ مجھے گرفتار کر کے کیا ملا؟ انھوں نے کہا کہ آپ کے پیچھے دہلی کو ٹھپ کر دیا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ دہلی کے دو کروڑ لوگوں کے کاموں کوٹھپ کر کے کوئی کیسے خوش ہو سکتا ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ 27 سال سے بی جے پی دہلی کے اقتدار سے باہر۔ لوگ انھیں ووٹ نہیں دیتے۔ اسی بات کیلئے لوگوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔ دہلی اسمبلی کا دو روزہ اجلاس جمعرات کو طوفانی انداز میں شروع ہوا ۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی قائدین نے ایک دوسرے کیخلاف نعرے لگائے۔ اسپیکر کو کارروائی کو مختصر طور پر ملتوی کرنے پر مجبور کرنا پڑا۔کجریوال کو آج کرسی نمبر41دی گئی جو چیف منسٹر کی کرسی سے کافی فاصلہ پر ہے جبکہ سیسودیا کو کرسی نمبر40دی گئی۔