مودی ہندوستان کی توہین کر نے والے ٹرمپ سے مرعوب

   

امریکی صدر نے ٹیرف پر انڈیا کو نیچا دکھانے کی کوشش کی لیکن مرکزخاموش تماشائی: کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے آج کہا کہ اگرچہ بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘وشوگرو’ قرار دینے میں کبھی نہیں تھکتی، لیکن سچائی یہ ہے کہ مودی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے پوری طرح سے جھک جاتے ہیں اور ان کے بیانات کا جواب دینے کی ہمت بھی نہیں رکھتے ہیں۔کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ اجے کمار نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرمپ، جنہیں مودی اپنا دوست کہتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے ، وہ ان کا استقبال کرنے کیلئے ہوائی اڈے تک نہیں آئے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے ٹرمپ کو بات چیت کے بیچ میں روک دیا اور کہا کہ وہ غلط ہیں۔ ٹرمپ وزیراعظم مودی کے سامنے ہندوستان کو برا بھلا کہتے رہے ۔ یہاں تک کہ جب ٹرمپ ہندوستان کو ٹیرف کی خلاف ورزی کرنے والا کہتے رہے ، مودی خاموش رہے جبکہ مودی وہی ٹرمپ کو اپنا بہترین دوست کہتے ہیں، جو ہندوستان کو مسلسل نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ ‘حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جیسے ہی مودی اپنے دورہ امریکہ سے واپس آئے ، امریکہ نے اعلان کیا کہ ایف ۔ 16 کی دیکھ بھال کیلئے پاکستان کو تقریباً 3000 کروڑ روپے دیے جا رہے ہیں، لیکن ہماری وزارت خارجہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ نے ٹیرف پر ہندوستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی لیکن حکومت نے کچھ نہیں کہا۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت میں معیشت تباہ ہو چکی ہے ۔ اسٹاک مارکیٹ کی حالت خراب ہے ۔ لوگ آج اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں سے انہوں نے شروعات کی تھی۔ لوگ بازار سے اپنا پیسہ مسلسل نکال رہے ہیں۔ دونوں طرف سے ٹیکس لگانے کی بات ملک کی جی ڈی پی میں کمی کا باعث بنے گی، جس کی وجہ سے ملک کی حالت خراب ہو جائے گی، وزیراعظم مودی معیشت کے دشمن ہیں۔ پہلے نوٹ بندی، پھر ناقص جی ایس ٹی، غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن اور اب ٹیرف کی وجہ سے نریندر مودی نے ملک کی تباہی کو یقینی بنایا ہے ۔