حیدرآباد 8 مئی ( سیاست نیوز ) وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی راما راؤ نے فیول قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ وہ اس پر دوہرے معیارات اختیار کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پکوان گیس سلینڈر کی قیمت 2014 میں 410 روپئے تھی جو اب 2022 میں ایک ہزار روپئے سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا صرف مودی حکومت میں ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر ایک گھنٹے کے سوال جواب سشن میں فیول قیمتوں میں اضافہ پر کہا کہ ’’ مودی ہے تو ممکن ہے ۔ اچھے دن میں آپ کا خیر مقدم ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں نریندر مودی پکوان گیس اور پٹرول وڈیزل قیمتوں کے معاملے میں ہندوستان کو دنیا میں نمبر ایک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے بحیثیت چیف منسٹر گجرات مرکزی حکومت پر زور دیا تھا کہ عوام پر بوجھ کم کرنے مرکزی حکومت پٹرول و ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی کم کی جائے اور اب بحیثیت وزیر اعظم وہ ریاستوں سے ویاٹ کم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکزی وزیر ٹکسٹائیل اسمرتی ایرانی نے پکوان گیس سلینڈر پر 50 روپئے اضآفہ پر احتجاج کیا تھا لیکن اب 100 روپئے اضافہ پر بھی وہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہ اضافہ دو ماہ سے بھی کم وقت میں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے نفع خوش کمپنیوں اور اداروںکو فروخت کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح بی جے پی در اصل ’’ بیچو جنتا کی پراپرٹی ‘‘ ہے ۔ اس سوال پرکہ ٹی آر ایس قومی سطح پر بی جے پی سے مقابلہ کیوں نہیں کرتی کے ٹی آر نے کہا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے کوئی نہیں جانتا ۔