مودی ۔ ٹرمپ فسطائی اتحاد پر احتجاج، جہد کاروں کا کھلا مکتوب

   

جمہوریت کو مٹانے اور اظہار خیال و مذہب کی آزادی پر پابندی عائد کرنے والی قوتوں کی مذمت

احمدآباد ۔ 22 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والی قوتوں اور آزادیٔ اظہار خیال و مذہب پر پابندیاں عائد کرنے والے عناصر کے درمیان فسطائی اتحاد نہ صرف ہندوستان کیلئے بلکہ مجموعی طور پر دنیا کیلئے خطرناک ہے، گجرات سے تعلق رکھنے والے زائد از 160 ماہرین تعلیم، جہد کاروں، طلبہ کے گروپ نے ’’نمستے ٹرمپ‘‘ ایونٹ کے خلاف کھلے مکتوب میں یہ بات کہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ 24 فروری کو احمدآباد پہنچیں گے اور وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اس ایونٹ میں حصہ لیں گے جسے نمستے ٹرمپ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایونٹ یہاں نوتعمیر شدہ موتیرا اسٹیڈیم میں منعقد کیا جارہا ہے۔ مکتوب پر دستخط کرنے والے 168 اشخاص نے کہا کہ آج عالمی فسطائیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس پس منظر میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے طاقتور ملک کے درمیان اس طرح کا اتحاد ہندوستان کیلئے تو خطرناک ہے ہی، دنیا کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ ہم ضمیر کو ٹٹولیں تو ان قوتوں کے درمیان اتحاد کی تائید نہیں کرسکتے جو جمہوریت کو مٹانے کوشاں ہیں اور اظہار خیال و مذہب کی آزادی پر تحدیدات عائد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان تمام خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جنہیں ان کے گھروں سے محروم کردیا گیا تاکہ ان لوگوں کیلئے گنجائش فراہم کی جاسکے جو اپنے ملکوں سے شہریوں کو خارج کردینا چاہتے ہیں۔ ہم واضح طور پر اس فاشسٹ الائینس کی مذمت کرتے ہیں اور مملکت ِ ہند سے ہماری اپیل ہے کہ بااثر عالمی گروپ کا حصہ بننے کی لالچ کے بجائے اپنے شہریوں کی ضرورتوں کو ترجیح دیں۔ ان جہد کاروں اور دیگر شخصیتوں میں ملیکاسارا بھائی اور انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ ۔ احمدآباد اور سی ای پی ٹی یونیورسٹی جیسے باوقار اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم شامل ہیں۔ کھلے مکتوب میں دعویٰ کیا گیا کہ ہندوستان اور امریکہ میں حالیہ برسوں کے دوران آمرانہ سیاست کا عروج دیکھنے میں آیا ہے جس میں مودی اور ٹرمپ کا نمایاں رول ہے۔ یہ بھی دعویٰ ہے کہ ٹرمپ نسل پرست، اسلام سے خائف اور غریبوں کے دشمن ہیں جس پر انہیں کوئی افسوس نہیں۔ جبکہ مودی نے شہریت ترمیمی قانون نافذ کیا جو پڑوسی مسلم اکثریتی ملکوں سے آنے والے مسلمانوں کو روکتا ہے اور دیگر اقلیتی گروپوں کو شہریت کی پیشکش میں تیزی پیدا کرتا ہے۔ مودی حکومت نیشنل رجسٹرآف سٹیزنس (این آر سی) بھی نافذ کرنے کے درپے ہے ، جس کے بارے میں یوروپی یونین کے ارکان متنبہ کرچکے ہیں کہ اس کی وجہ سے دنیا میں بے وطنی کا سب سے بڑا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ صرف گزشتہ سال ہی 69,550 تارک وطن بچے اپنی فیملیوں سے علیحدہ ہوگئے اور ان کو حکومت کی تحویل میں رکھنا پڑا ہے۔ محروس تارکین وطن کی فہرست میں 52 ہندوستانی شہری شامل ہیں جن میں سے ایک گزشتہ سال مئی میں امریکی تحویل میں فوت ہوگیا۔ ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ملکوں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں اور ایمیگرینٹس کے خلاف پابندی عائد کی تھی جبکہ ہندوستان نے سی اے اے نافذ کررکھا ہے۔ اس طرح کے اقدامات کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ مودی۔ ٹرمپ اتحاد فسطائیت کا نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ’’نمستے ٹرمپ ‘‘ ایونٹ کی تائید نہیں کرسکتے۔