مورکا تخت مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت کی علامت

   

یہی تخت زوال کی علامت بھی کہا گیا ۔ نادر شاہ نے دہلی سے تخت ایران منتقل کیا تھا
حیدرآباد 13 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : مور کا تخت مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت کی علامت تھی ۔ مورخین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اتفاق تھا کہ یہی تحت مغلیہ سلطنت کے زوال کی علامت کے طور پر بھی ابھرا تھا ۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے حکم پر سناروں کو 1628 میں اس تخت کو بنانے کا کام سونپا گیا ۔ اس کو بنانے میں سات سال لگے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس کو بنانے میں ایک کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ یہ تاج محل کی تعمیر کی لاگت سے دگنی ہے ۔ یہ تخت 1150 کلو گرام سونا اور 230 کلو گرام کے مختلف جواہرات سے بنایا گیا تھا ۔ کوہ نور ہیرا اور کیمور یاقوت بھی اس تخت میں نصب تھا ۔ یہ تخت دہلی کے لال قلعہ میں مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت کی علامت کے طور پر طویل عرصہ برقرار تھا ۔ ایران کے حکمران نادر شاہ نے 1739 میں مغلیہ سلطنت پر حملہ کیا ۔ اس نے مغل فوج کو شکست دی اور دہلی پر قبضہ کرلیا ۔ اس سے مغلیہ سلطنت کے زوال کا آغاز ہوا ۔ ایک عاجزانہ پس منظر سے آتے ہوئے نادر شاہ اقتدار میں آیا اور عثمانیوں کو شکست دے کر حکمرانی کو مستحکم کیا ۔ اس کے بعد نادر شاہ نے 1739 میں ہندوستان پر حملہ کیا ۔ اس نے کرنال کی لڑائی میں مغل شہنشاہ محمد شاہ کو شکست دی اور دہلی کو لوٹ لیا ۔ مورخین کا کہنا ہے کہ اس نے اس وقت تقریبا 70 کروڑ روپئے کی دولت لوٹی تھی ۔ نادر شاہ نے جو دولت لوٹی اس میں میسور کا تخت اور عالمی شہرت یافتہ کوہ نور ہیرا بھی شامل تھا ۔ نادر شاہ نے جواہرات اور یاقوت سے مزین مور کا تخت ہاتھیوں اور اونٹوں پر ایران پہنچایا ۔ 1747 میں نادر شاہ کو اس کے حریفوں نے قتل کردیا ۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ مور کا تخت بعد میں پگھل گیا اور سونا ، جواہرات اور یاقوت دوسروں نے لوٹ لئے ۔۔ ش